وزیرستان سے ہجرت کرنے والی خواتین کی مشکلات

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یہ پناہ گزین خواتین آپ کو سڑکوں پہ چلتی پھرتی یا پھر راشن کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑی نظر نہیں آئیں گی لیکن ان کی پریشانی کسی بھی مرد سے کم نہیں ہے کیونکہ آخر کار دن بھر انھیں اپنے بھوکے بچوں کا منہ دیکھنا پڑتا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کی بدولت ہجرت کرنے والی لاکھوں قبائلی خواتین جہاں تنگ جگہ ، تنگ دستی اور شدید گرمی سے بدحال ہیں وہیں انھیں رمضان کے انتطام کی فکر بھی ستائے ہوئے ہے۔

بنوں کے مضافات میں اینٹ بنانے والے ایک بھٹے کے مالک نے ان پناہ گزینوں کو سر چھپانے کے لیے ایک ایک کمرے کے کوارٹرز رہنے کے لیے دے ہیں۔

حسیمہ نے اپنی زندگی میں پہلی دفعہ اپنے علاقے میر علی سے بنوں کاسفر کیا اور اپنے والدین کے ساتھ انہی کوارٹرز میں آ کر بسیں۔

سر چھپانے کو تو جگہ مل گئی لیکن 15 افراد پر مشتمل اس کنبے کے پاس کھانے پینے کی اشیا سمیت گھر میں رہنے کی جگہ بھی ناکافی ہے ۔

حسیمہ نے کہا ’آپ ہمارے رہنے کی جگہ دیکھیں کتنی تنگ ہے؟ کمرے میں چار چارپائیاں ہیں اور ان پر سونے والے 15 افراد ہیں۔‘

یوں تو یہ پناہ گزین خواتین آپ کو سڑکوں پہ چلتی پھرتی یا پھر راشن کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑی نظر نہیں آئیں گی لیکن ان کی پریشانی کسی بھی مرد سے کم نہیں ہے کیونکہ آخر کار دن بھر انھیں اپنے بھوکے بچوں کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔

حسیمہ کو فکر ہے کہ رمضان سر پہ ہے اور ان کے گھر میں راشن کا سامان تک میسر نہیں جبکہ ان کے پاس کھانا پکانے کے برتن، چولہا، دیگچی، پلیٹیں اور کپ وغیرہ بھی نہیں ہیں۔

انھوں نے بتایا ’ہم اپنےگھروں میں افطار کے لیے شربت بنایا کرتے تھے، میوہ کھاتے تھے، تکے وغیرہ بناتے تھے اور اپنی استعداد کے مطابق جو بن پڑتا کیا کرتے تھے۔‘

اپنےگھروں سے نکلنے کے بعد حسیمہ اور ان جیسی کئی نوجوان لڑکیوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بے پردگی کا ہے۔ ان کے مطابق گھر تنگ ہیں اور بے پردگی کے ڈر سے ساری لڑکیاں لیٹنے بیٹھنے کے بجائے کھڑے کھڑے وقت گزار دیتی ہیں۔

’ہم جلد بازی میں گھر سے نکلتے ہوئے اپنا سامان ساتھ نہیں لے سکے۔ ہمیں ایک دوپٹے میں گھر سے نکنا پڑا۔ راستے میں بے پناہ تکالیف کا سامنا رہا۔ کھانے کو کچھ نہیں تھا جبکہ نالے کا گندا پانی پی کر گذارا کیا۔ بچے الٹی دست سے بے حال تھے۔‘

حسیمہ بتاتی ہیں ’اسی بھاگم دوڑ میں کئی بچے گم ہوئے جبکہ کئی بچے نالے کا گندہ پانی پینے کی وجہ سے اُلٹی دست کا شکار ہوکر شدید بیمار پڑگئے۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ ان کے گھر کی آمدنی کا واحد سہارا گائے بھینسیں ہوا کرتی تھیں جو راستے میں مرگئیں۔ ان میں سے زندہ بچ جانے والے ایک چوپائے کو ان کے والد نے 40 ہزار روپے میں فروخت کیا جبکہ اس کی اصل قیمت ایک لاکھ روپے تھی۔

حسیمہ نے شدید غم و غصہ میں کہا ’حکومت کیسے انھیں کوئی وقت دیئے بغیر اچانک اپنے گھروں سے نکل جانے کا حکم دے سکتی ہے ۔ وہ چاہتی ہیں کہ اب ایک بار ہی حکومت علاقے سے شدت پسندوں کا صفایا کردے تاکہ انھیں اور ان کے علاقے کے دیگر افراد کو بار بار نقل مکانی کی زحمت سے نجات ملے۔‘

اسی بارے میں