آپریشن: قبائلی عورتیں کیا سوچتی ہیں

خواتین تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فوجی آپریشن کے بارے میں محفوظ اور غیر محفوظ علاقوں میں رہنے والی خواتین کی رائے بالکل مختلف ہے۔

شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی سے تعلق رکھنے والی انار بی بی کی عُمر اسی سال کے لگ بھگ ہوگی، انھوں نے اپنی زندگی میں پہلی بار اپنے گھر سے قدم نکالا ہے تاہم افغانستان کی جنگ کے بعد انھوں نے طالبان کو شمالی وزیرستان آتے دیکھا اور اب اپنے ہی علاقے میں طالبان کے خلاف بم باری، شیلنگ اور فوجی آپریشن ہوتے دیکھ رہی ہیں۔

قبائلیوں کے گھر وسیع و عریض ہوتے ہیں جس کے چاروں جانب اونچی دیواریں بنی ہوتی ہیں۔ انار بی بی اور اُن جیسی ہزاروں لاکھوں قبائلی عورتیں اِن بڑے بڑے گھروں میں اپنی زندگی بتا دیتی ہیں۔

انار بی بی بتاتی ہیں کہ ’ہم نہیں چاہتے تھے کہ طالبان اور غیر ملکی جیسے کہ اُزبک ہمارے علاقوں میں آئیں لیکن اُس وقت حکومت نے انہیں آنے کی اجازت دی۔ میر علی میں طالبان کے آنے سے پہلے بہت امن تھا لیکن جب سے وہ آئے ہم اُن کے ڈر سے اپنے ہی علاقوں میں نکل نہیں پاتے تھے‘۔

فوجی آپریشن کے بارے میں محفوظ اور غیر محفوظ علاقوں میں رہنے والی خواتین کی رائے بالکل مختلف ہے۔ میر علی کے ایک غیر محفوظ علاقے کی رہائشی انار بی بی کا مؤقف ہے کہ ان کے علاقوں سے طالبان کے جانے کے باوجود فوجی آپریشن شروع کیا گیا۔ بم باری کی وجہ سے ان کے بیٹے کی دُکان دو بار جل چکی ہے جس کا انہیں بے حد دُکھ ہے۔

’ہمارے علاقوں میں اب ایک بھی طالب نہیں ہے۔ وہ خوست جا چکے ہیں۔ اب یہ نہیں پتا کہ حکومت ڈرامہ کر رہی ہے یا صحیح کام کر رہی ہے لیکن مجھے خدشہ اس بات کا ہے کہ حکومت کہیں بم باری کر کے ہمارے گھر بھی تباہ نہ کردے‘۔

ایک عیسائی خاتون فہمیدہ یاسمین سول کالونی میران شاہ سے ہیں۔ سول کالونی کا علاقہ فوجی چھاؤنی میں آتا ہے جو نسبتا ایک محفوظ علاقہ ہے۔ فہمیدہ کے شوہر ایف سی کے ملازم ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ’میران شاہ سے ان کے شوہر نے فون پر بتایا کہ مارٹر گولے کے حملے سے ان کا گھر شدید متاثر ہوا۔ تاہم وہ خود محفوظ رہے ہیں‘۔

فوجی آپریشن کے بارے میں ان کی رائے ہے کہ یہ آپریشن غیر ملکیوں کو نکالنے کے لیے کیا گیا ہے۔

’غیر ملکیوں نے ہمارا ملک خراب کیا ہوا ہے۔ اُدھر غیر ملکی بہت ہیں۔ہمارے طالب تو کچھ نہیں کہتے۔ وہ حکومت کے ساتھ ہیں۔آئے دن کے خود کُش بم دھماکوں کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اِن غیر ملکیوں کے خلاف آپریشن کیا جائے‘۔

شیبا جہاں زیب ایک ہندو ہیں۔ان کا تعلق تو بنوں سے ہے تاہم ان کی شادی میران شاہ میں ہوئی۔ ان کے شوہر ٹوچی میں ایف سی کے اہلکار ہیں۔ فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد انھوں نے بیوی بچوں کو تو بنوں روانہ کر دیا لیکن خود میران شاہ میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’جب بم باری ہوتی ہے تو خوف آتا تھا، اب تو کبھی کبھی دن میں چھ سے سات دفعہ بم باری ہوتی ہے لیکن ہم اپنا کام کرتے رہتے ہیں، تندور پہ روٹیاں لگاتے رہتے ہیں‘۔

شیبا نے کہا کہ ’ہم ہنستے ہیں خوش ہوتے ہیں۔ جب گولیاں نکلتی ہیں تو وہ ایک عجیب نظارہ ہوتا ہے۔ بچے کہتے ہیں ماما باہرنکلو، دیکھو کیا ہو رہا ہے یہ سب دیکھتے دیکھتے آٹھ دس سال ہوگئے ہیں۔ شیلنگ اور گولیاں چلتے دیکھتے ہوئے آٹھ دس سال ہوگئے ہیں۔اب خوشی ہوتی ہے، خوف نہیں آتا۔ اب عادت ہوگئی ہے‘۔

اِن قبائلی خواتین کے لیے ملکی صورتحال، طالبان، ڈرون حملوں یا فوجی آپریشن سب کے بارے میں رائے قائم کرنے کے لیے معلومات کا بنیادی ذریعہ ان کے گھروں کے مرد ہوتے ہیں جب کہ اُن کے گھروں میں ریڈیو بھی سُنا جاتا ہے۔ اِن میں اکثر کا خیال ہے کہ حکومت نے اول اُن کے علاقے میں طالبان آباد کیے اور اب نکالنے کے لیے ان کے علاقوں میں فوجی آپریشن شروع کردیا۔ ان کے مطابق دونوں ہی فیصلوں سے صرف ان کا ہی نقصان ہوا۔

اسی بارے میں