شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کی ’امارت‘ کا خاتمہ؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شمالی وزیرستان پچھلے تقریباً چھ سالوں سے شدت پسند تنظیموں سے منسلک ملکی اور غیر ملکی عسکریت پسندوں کا گڑھ رہا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضربِ عضب بظاہر اس حد تک تو کامیاب نظر آ رہا ہے کہ ایک ایسے علاقے کو انتہا پسند تنظیموں سے صاف کیا جا رہا ہے جہاں انھوں نے کئی سالوں سے اپنی ’امارت‘ قائم کر رکھی تھی۔

تاہم اکثر لوگ سوال کرتے ہیں کہ اس آپریشن کا مقصد محض شدت پسندوں کو شمالی وزیرستان سے بے دخل کرنا تھا یا ان کا مکمل طور پر خاتمہ کرنا بھی حکمت عملی کا حصہ تھا؟

شمالی وزیرستان پچھلے تقریباً چھ سالوں سے شدت پسند تنظیموں سے منسلک ملکی اور غیر ملکی عسکریت پسندوں کا گڑھ رہا ہے۔

یہ ایجنسی اس وقت عسکریت پسندوں کے مضبوط مرکز میں تبدیل ہوئی جب پاکستانی فوج کی جانب سے مختلف قبائلی علاقوں میں عسکری گروہوں کے خلاف باضابطہ طور پر آپریشن کا آغاز کیا گیا۔

سب سے پہلے سوات اور ملاکنڈ ڈویژن میں فوج کی جانب سے موثر کارروائیاں کی گئیں جس کے نتیجے میں چند اہم کمانڈر یا تو مارے گئے یا جان بچا کر وزیرستان کی جانب فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔

اس طرح باجوڑ اور مہمند ایجنسیوں میں بھی آپریشن کے باعث بیشتر جنگجوؤں نے بھاگ کر شمالی وزیرستان کا رخ کیا۔

یہ علاقہ اس وقت دنیا کی توجہ کا مرکز بنا جب شمالی وزیرستان سے متصل قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف سنہ 2009 میں آپریشن راہِ نجات کے نام سے بڑی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔

اس آپریشن سے نہ صرف ٹی ٹی پی کی قیادت اور اہم کمانڈروں نے بھاگ کر شمالی وزیرستان میں پناہ لی بلکہ ان تنظیموں کے سائے تلے کام کرنے والے غیر ملکی جنگجوؤں نے بھی شمالی وزیرستان میں مستقل طور پر اپنا ڈیرے ڈال لیے۔

اس کے علاوہ پاکستان کے حامی سمجھے جانے والے افغان طالبان حقانی نیٹ ورک اور حافظ گل بہادر گروپ کے جنگجوؤں کے لیے شمالی وزیرستان پہلے ہی سے ایک مضبوط پناہ گاہ کے طور پر کام کرتا رہا۔

ادھر ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ آپریشن ضربِ عضب شروع ہونے سے قبل تمام ملکی اور غیر ملکی عسکریت پسند علاقہ چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو چکے تھے۔

اس بات کا اشارہ آپریشن کے آغاز سے پہلے ذرائع ابلاغ میں وقتاً فوقتاً شائع ہونے والی ان رپورٹوں سے بھی ملتا ہے جس میں کہا جا رہا تھا کہ شمالی وزیرستان میں بیشتر عسکریت پسند بالخصوص بیرونی ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد اپنا سامان سستے داموں فروخت کر کے اہلِ خانہ سمیت علاقہ چھوڑ کر جا رہے ہیں۔

شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے افراد بھی کہتے ہیں کہ علاقے سے غیر ملکیوں کا انخلا اس وقت شروع ہوا جب رواں برس مئی میں ان کے ٹھکانوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ جیٹ طیاروں کے حملوں میں غیر ملکیوں کو خاصا جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔

شدت پسندی پر کام کرنے والے پشاور کے سینئیر صحافی اور مصنف عقیل یوسف زئی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں شمالی وزیرستان وہ واحد ایسا علاقہ تھا جہاں حکومت پاکستان کی کوئی عمل داری نہیں تھی اور جہاں شدت پسند بیٹھ کر ملک کے اندر اور باہر حملے کرانے کے منصوبے بنایا کرتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت کم از کم اس حد تک کامیاب نظر آتی ہے کہ فاٹا میں شدت پسندوں کو ایک بڑے مرکز سے محروم کر دیا گیا ہے، تاہم یہ تو آنے والا وقت ہی ثابت کرے گا کہ عسکریت پسند یہاں کا دوبارہ رخ کرتے ہیں یا نہیں۔

ان کے مطابق اس آپریشن میں صرف ان شدت پسندوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو پاکستان میں حملوں میں ملوث تھے یا ان سے ملک کو مستقبل میں کوئی خطرہ لاحق تھا، لیکن جو پاکستان کے حامی تھے ان کو بظاہر نکلنے کا محفوظ راستہ دے دیا گیا ہے۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کچھ عرصہ سے وزیرستان میں چین سے تعلق رکھنے والے اویغور نسل کے شدت پسند بھی سرگرم تھے اور جن پر چین کے اندر حملوں کا الزام لگتا رہا ہے۔

ان حملوں کی وجہ سے پڑوسی ملک چین کی جانب سے پاکستان پر ان شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کےلیے دباؤ مسلسل بڑھتا رہا۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے گورنر کے مطابق آپریشن ضربِ عضب کا مرکزی ہدف غیر ملکی عسکریت پسند ہیں۔ فوج کی جانب سے اب تک ہلاکتوں کے حوالےسے جو اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں ان میں بھی مرنے والے بیشتر غیر ملکی بتائے گئے ہیں۔

دوسری جانب غیر قانونی شدت پسند تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے فوجی آپریشن کے حوالے سے ابھی تک مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے۔

تحریک کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کی جانب سےتاحال ذرائع ابلاغ کو کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے جس سے بظاہر لگتا ہے کہ یا تو طالبان مشکل کا شکار نظر آتے ہیں اور کسی دوسرے محفوظ ٹھکانے کی تلاش میں ہیں یا کسی حکمت عملی کے تحت خاموشی اختیار کی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں