تحفظِ پاکستان بل 2014 کی سینیٹ سے منظوری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سینٹ کا ایک روزہ خصوصی اجلا س پیر کی شام کو ڈپٹی چیرمین صابر بلوچ کی صدارت میں منعقد ہوا

پاکستان کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ نے ملک سے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے تحفظ پاکستان بل سنہ 2014 کی منظوری دے دی ہے۔

حزب اختلاف نے کہا کہ انھوں نے ملکی موجودہ صورتحال کے پیش نظر بل کی حمایت کی ہے۔ تاہم انھوں نے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان کے رویّے کو ایک بار پھر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

سینٹ کا ایک روزہ خصوصی اجلا س پیر کی شام کو ڈپٹی چیرمین صابر بلوچ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جس میں وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان کی غیر موجودگی میں وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی زاہد حامد نے پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف موثر قانونی اقدامات کرنے کےلیے تحفظ پاکستان بل پیش کی۔ جس سےحزب اختلاف کی عدم مخالفت کے باعث ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔

اس پر وفاقی وزیر زاہد حامد نے تمام ارکان بالخصوص حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ’ایک ایسے وقت میں بل کی منظوری دی ہے جب ایک طرف ملک دہشت گردی اور بدامنی سے دوچار ہے تودوسری جانب پاک فوج کا شمالی وزیرستان میں ملک دشمنوں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔‘

انھوں واضع کیا کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں حکومت اور حزب اختلاف کی تمام جماعتیں فوج کےشانہ بشانہ کھڑی ہیں۔ تاکہ ملک دشمنوں کو ہر محاذ پر شکست دی جاسکے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت نے حزب اختلاف کی جانب سے دیی گئی اکثرترامیم کو مشاورت کے بعد نہ صرف تسلیم کیا بلکہ انھیں تحفظ پاکستان بل کا حصہ بھی بنا دیاگیاہے۔

بل پاس ہونے کےفورا بعد جب زیادہ تر حکومتی وزراء اچانک ایوان سے باہر چلےگئے۔ تو حزب اختلاف کے ارکان نے اس پر شدید احتجاج کیا۔ جس کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی چیرمین سینٹ صابربلوچ نے لیڈرآف دی ہاوس راجہ ظفرالحق کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ وفاقی وزرا کی ایوان میں موجودگی کو یقنی بنالیں۔

حکومتی وزرا کے اس رویے پر پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر میاں رضاربانی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اتنا اہم بل پیش کیا اور منظوری کے ایک منٹ بعد وزرا کی اکثریت کا ایوان سے باہرنکلنا حکومت کی غیرسنجیدگی کاواضع ثبوت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption تحفظ پاکستان بل کی بڑے پیمانے پر مخالفت بھی کی گئی

میاں رضاء ربانی نے مزید کہا کہ ’تحفظ پاکستان بل (پی پی او) پر حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان جتنے بھی اجلاس اور رابطے ہوئے اس میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی نےایک بار بھی شرکت کرنے کی زحمت تک گوارہ نہ کی اور حسب روایت آج بھی وہ پی پی او کو پیش اور منظور کرنے کےلیے سینٹ میں نہیں آئے۔‘

میاں رضاء ربانی کہا کہ اس وقت ملک حالت جنگ میں ہے اور حزب اختلاف کی پارلیمانی جماعتوں نے ملک کی بقاء اور سلامتی کی خاطر اس بل کی حمایت کی ہے۔

بصورت دیگر اس بل کی منظوری اس وقت تک نہ دیتے کہ جب تک چوہدری نثارعلی خان خود سینٹ میں نہیں آتے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’موجودہ حکومت صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ بعض قوتیں ملک کو سیاسی اور جمہوری طور پر کمزور کرنے میں سرگرم عمل ہوچکے ہیں لیکن اگر حکومت کا رویہ اس طرح غیرسنجیدہ اور غیر سیاسی رہا تو اس کے بہت خطرناک نتائج ہوں گے۔‘

بقول میاں رضاء ربانی کے کہ ماضی جب بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے جو فیصلے ایوان سے باہر کیے اس کے نتیجے میں نہ صرف ان کی سابقہ حکومتوں کو نقصان ہوا بلکہ جمہوری اور سیاسی ادارے بھی اس سے محفوظ نہ رہ سکے۔

انھوں نے وزیراعظم نواز شریف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ وہ پارلیمنٹ کا احترام کریں اور تمام فیصلوں پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے مشاورت کریں کیونکہ ملک کو موجودہ صورتحال کا واحد حل صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے۔

سینٹ میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے ماضی میں (پی پی او) بل کی مخالفت کی تھی اور حکومت کو اکثریت نہ ہونے کا باعث کئی بار ناکامی کاسامنا کرنا پڑا۔

لیکن اس بار بل کی حمایت کرنے کی وجوہات بتاتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے سنیٹر افراسیاب خٹک نےکہا کہ حکومت نے حزب اختلاف کی جانب دیے گئے اکثرترامیم کو تسلیم کر لیا ہے۔

ترامیمی بل کے مطابق اب تین طرح کے ملزم ہوں گے۔ ایک وہ جو غیر ملکی ہیں اس سے الگ طریقے سے نمٹا جائےگا، دوسرا پاکستانی دہشت گرد ہے جبکہ تیسرا عام ملزم ہوگا۔انھیں عدالت میں اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرنے کاقانونی حق حاصل ہوگا۔ اس کے علاوہ پندرہ گریڈ سے اوپر کی کسی آفیسر کو کسی مشکوک شخص پرگولی چلانے کا اختیار ہوگا اور کسی کی موت واقع ہونے کی صورت میں اس کی عدالتی تحقیقات لازمی قراردی گئی۔

اس کےعلاوہ اب کوئی بھی ادارہ صرف 60 دنوں تک کسی مشکوک شخص کو تحقیقات کے لیے قید خانے میں رکھ سکی ہے۔ جبکہ ضرورت پڑنے پرعدالتوں کو ان قید خانوں کا نگرانی کرنے کاحق حاصل ہوگا۔

خیال رہے کہ نئے ترامیم کے باعث تحفظ پاکستان بل کو دوبارہ منظوری کے لیے قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائےگا۔ امکان ہے کہ قومی اسمبلی سے بھی دہشت گردی کےخلاف مذکورہ بھاری اکثریت سے پاس ہوجائےگا۔

اسی بارے میں