ضرب عضب: میران شاہ سے زمینی کارروائی کا آغاز

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption پاکستان کی فوج نے شمالی وزیرستان میں 15 جون کو آپریشن ضربِ عضب کا آغاز کیا تھا

پاکستان کی فوج کے مطابق قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جاری ضربِ عضب آپریشن کے دوران پیر کی صبح میران شاہ کے علاقے میں زمینی کارروائی شروع کر دی گئی ہے جس میں ابھی تک 15 شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق علاقے سے عام شہریوں کے انخلا کے بعد میران شاہ اور اس کے گرد و نواح میں فوج نے زمینی کارروائی شروع کر دی ہے۔

وزیرستان سے ہجرت کرنے والی خواتین کی مشکلات

’نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد چار لاکھ سے زیادہ‘

’شمالی وزیرستان سے آنے والے دس افراد حراست میں‘

بیان کے مطابق فوج کے خصوصی دستے میران میں شاہ میں گھر گھر سرچ آپریشن کر رہے ہیں اور زمینی کارروائی میں ابھی تک 15 شدت پسند ہلاک کیے گئے ہیں جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں تین فوجی زخمی ہوئے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ فوج نے علاقے میں بارودی سرنگیں اور دیسی ساختہ بم بنانے کے کارخانے بھی دریافت کیے ہیں۔

فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ میر علی کے علاقے میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر توپ خانے، ٹینک اور بھاری اسلحے سے فائرنگ جاری ہے جبکہ دیگر علاقوں میں شدت پسندوں کا محاصرہ جاری ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق 15 جون کو شروع ہونے والے آپریشن صربِ عضب میں اب تک 376 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 19 نے اپنے آپ کو حکام کے حوالے کیا ہے، اور اس آپریشن میں 17 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ابھی تک جاری آپریشن میں شدت پسندوں کے 61 مشتبہ ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا ہے۔

آئی آیس پی آر کے مطابق بنوں، ڈی آئی خان اور ٹانک میں شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے پناہ گزینوں میں امدادی سامان کی تقسیم جاری ہے اور ان میں ایک سو دس کلو کے 30 ہزار راشن کے پیکٹ تقسیم کیے گئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی فوج کی جانب سے قائم کیے جانے والے 55 مقامات میں اب تک 276 ٹن راشن جمع کیا گیا ہے جس کی بنوں تک ترسیل کا سلسلہ جاری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ میر علی کے علاقے میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر توپ خانے، ٹینک اور بھاری اسلحے سے فائرنگ جاری ہے جبکہ دیگر علاقوں میں شدت پسندوں کا محاصرہ جاری ہے

بنوں میں فوجی ہسپتال میں 5000 سے زیادہ مریضوں کا علاج جاری ہے جبکہ چھ ہزار سے زائد مویشوں کو بھی طبی سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں۔

اتوار کو آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ میر علی کے قریب فضائی حملوں میں مزید 16 شدت پسند ہلاک ہوئے۔ پاکستانی فوج کے مطابق ان حملوں کے دوران بھاری مقدار میں اسلحے کا ذخیرہ اور دھماکا خیز مواد بھی تباہ کر دیا گیا۔

اس سے پہلے سنیچر کو پاکستانی فوج نے میر علی میں ایک اہم کمانڈر سمیت 11 شدت پسندوں کو ہلاک اور ان کے چھ ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

ادھر امریکہ نے کہا تھا کہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی پاکستان کی زیرِ قیادت ہو رہی ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان میری ہارف نے جمعے کو واشنگٹن میں دی جانے والی پریس بریفنگ میں بتایا کہ امریکہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی حمایت کرتا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے پاکستان میں حکومت کی عمل داری اور اس کا داخلی استحکام مضبوط بنانے کی کوششوں کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔

اسی بارے میں