طالبان کو پاکستانی نہیں غیرملکی اشیا پسند

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شہر میں زیادہ تر ٹیلیویژن پر خبریں یا کھیلوں کے پروگرام چلائے جاتے ہیں: میران شاہ کے ایک دکاندار

پاکستان اور بین الاقوامی سطح پر طالبان ایک ناپسندید کردار کے طور پر جانے جاتے ہیں لیکن کچھ دکانداروں کے لیے وہ پسندیدہ گاہک ہیں۔

رشید الرحمان کا میران شاہ میں جنرل سٹور ہے، جہاں روزانہ ایک لاکھ سے سوا لاکھ روپے مالیت تک کا کاروبار ہوتا تھا۔ لیکن آپریشن کے اعلانات اور حالات کی خرابی نے ان کے کاروبار کو شدید متاثر کیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ طالبان زیادہ تر غیر ملکی برانڈ کی پرفیومز کے علاوہ باہر کے باڈی سپرے خریدتے ہیں، خصوصاً تیز خوشبوئیں اور سپرے۔

رشید الرحمان اسلام آباد اور لاہور سے خاص طور پر غیر ملکی اشیا لاتے ہیں۔ بقول ان کے طالبان کو پاکستان کی بنی ہوئی مصنوعات پسند نہیں آتیں۔ صابن میں انھیں امریکی برانڈ کے ساتھ ساتھ باہر کے بنے ہوئے شیمپو پسند ہیں۔

بنوں میں ان دنوں ایک تعمیراتی منصوبے میں مزدوری کرنے والے ایک نوجوان کے مطابق طالبان اس سے 15 سو سے دو ہزار روپے تک کے پرفیوم خریدتے تھے اور یہ کبھی نہیں کہتے کہ فلاں چیز کی قیمت میں کمی کر دو بلکہ وہ منہ مانگی رقم دیتے ہیں۔

شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی اور میران شاہ گذشتہ ایک دہائی سے طالبان کے زیر اثر ہیں اور ان علاقوں میں وسطی ایشیا کے جنگجو بھی رہتے تھے۔ اطلاعات کے مطابق آپریشن سے قبل انھوں نے اپنا الیکٹرانک سامان اونے پونے نرخوں پر فروخت کر دیا تھا۔

میران شاہ میں سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز کی مرمت کرنے والے ایک نوجوان نے بتایا کہ شہر میں زیادہ تر ٹیلیویژن پر خبریں یا کھیل کے پروگرام چلائے جاتے ہیں جبکہ بعض لوگ نعتیں چلاتے ہیں۔ اس کے علاوہ گانوں اور فلموں کی ڈی وی ڈیز اور سی ڈیز بھی فروخت ہوتی ہیں لیکن اس کو خفیہ رکھا جاتا ہے۔

ایک مسیحی نوجوان کا کہنا تھا کہ شہر میں مہنگی خریداری زیادہ تر طالبان ہی کرتے ہیں۔ وہ سیاہ شیشیوں والی گاڑیوں میں آتے ہیں اور دل کھول کر خریداری کرتے ہیں۔ اس نوجوان کے مطابق طالبان ایسی ایسی چیزیں خریدتے ہیں ’جن کے بارے میں ہم جیسے لوگ صرف سوچ سکتے ہیں‘۔ طالبان کی خرید کردہ اشیا میں جوگرز اور ہنڈا موٹر سائیکلیں بھی شامل ہیں۔

آپریشن سے پہلے مقامی لوگوں کے مطابق مسلح طالبان میر علی اور میران شاہ میں آزادانہ گھومتے پھرتے نظر آتے اور جس شخص پر شبہ ہوتا تھا اس کو حراست میں لے لیا جاتا تھا۔ ایک مسیحی نوجوان نے بتایا کہ ان کی رہائش سویلین کالونی میں ہے ان پر طالبان یہ شبہ کرتے تھے کہ وہ پاکستان فوج کے لیے جاسوسی کرتے ہیں اس لیے انھیں دھمکایا ڈرایا جاتا تھا۔

بنوں کے آس پاس کچھ قبروں پر پاکستان کا جھنڈا لگا ہے۔ یہ قبریں زیادہ تر ان پولیس اہلکاروں کی ہیں جو طالبان کے حملوں یا مقابلے میں ہلاک ہوئے۔ اسی طرح کچھ قبرستان میں چادروں والی قبریں ہیں جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ جہادیوں کی قبریں ہیں۔

اسی بارے میں