’ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کو بلاامتیاز ختم کریں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption افواجِ پاکستان دہشت گردوں کا کوئی ٹھکانہ باقی نہیں رہنے دیں گی: نواز شریف

وزیرِ اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جاری ضربِ عضب آپریشن کے دوران ملکی اور غیر ملکی ’دہشت گردوں‘ کو بلا امتیاز ختم کر کے دم لیں گے۔

اس سے پہلے صوبہ خیبر پختونخوا کے گورنر سردار مہتاب احمد خان نے جو فاٹا کے سول انتظامیہ کے سربراہ بھی ہیں بی بی سی کو بتایا تھا کہ شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن کا مرکزی ہدف غیر ملکی شدت پسند ہیں جن کا پیچھا اس وقت تک جاری رکھا جائے گا جب تک ان کا جڑ سے خاتمہ نہیں ہو جاتا۔

’کیانی ہچکچاتے رہے، آپریشن ٹالتے رہے جس سے نقصان اٹھایا‘

وزیرستان میں شدت پسندوں کی ’امارت‘ کا خاتمہ؟

پاکستان کے سرکاری ٹی وی پی ٹی وی کے مطابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ’شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب کا فیصلہ ہر پہلو پر غور کرنے کے بعد ہوا اور اب یہ آپریشن بھرپور قوت کے ساتھ شروع ہو گیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’افواجِ پاکستان دہشت گردوں کا کوئی ٹھکانہ باقی نہیں رہنے دیں گی،‘ اور یہ کہ ’پاکستان کی ریاست قبائلی علاقوں میں اپنی مکمل عمل داری قائم کرے گی۔‘

وزیرِ اعظم پاکستان نے کہا کہ ’آپریشن ضربِ عضب کی کامیاب تکمیل کے بعد قبائلی علاقوں میں ترقی کے نئے دور کا آغاز کریں گے۔‘

اس سے پہلے پیر کو پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ شمالی وزیرستان علاقے میر علی سے عام شہریوں کے انخلا کے بعد وہاں اور اس کے گرد و نواح میں فوج نے زمینی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

بیان کے مطابق فوج کے خصوصی دستوں نے میران میں شاہ میں گھر گھر سرچ آپریشن کیا اور زمینی کارروائی میں 15 شدت پسند ہلاک ہوگئے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں تین فوجی زخمی ہوئے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ فوج نے علاقے میں بارودی سرنگیں اور دیسی ساختہ بم بنانے کے کارخانے بھی دریافت کیے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق 15 جون کو شروع ہونے والے آپریشن صربِ عضب میں اب تک 376 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 19 نے اپنے آپ کو حکام کے حوالے کیا ہے، اور اس آپریشن میں 17 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

فوج کے بیان میں کہا گیا تھا کہ آپریشن ضربِ عضب میں شدت پسندوں کے 61 مشتبہ ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔

آئی آیس پی آر کے مطابق بنوں، ڈی آئی خان اور ٹانک میں شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے پناہ گزینوں میں امدادی سامان فراہم کیا جا رہا ہے اور ان میں 110 کلو راشن کے 30 ہزار پیکٹ تقسیم کیے گئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستانی فوج کی جانب سے قائم کیے جانے والے 55 مقامات پر اب تک 276 ٹن راشن جمع کیا گیا ہے جس کی بنوں تک ترسیل کا سلسلہ جاری ہے۔

اسی بارے میں