’دہشتگردوں‘ سے نمٹنے کا قانون پارلیمنٹ سے منظور

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سینٹ میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے ماضی میں (پی پی او) کی مخالفت کی تھی اور حکومت کو اکثریت نہ ہونے کا باعث کئی بار ناکامی کاسامنا کرنا پڑا

پاکستان کی قومی اسمبلی نے کثرتِ رائے سے ملک میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے بنائے جانے والے نئے قانون ’پروٹیکشن آف پاکستان بل 2014 ‘ کی منظوری دے دی ہے۔

یہ بل دو سال کے لیے نافذ العمل ہو گا۔

رائے شماری کے دوران جماعت اسلامی نے اس بل کی مخالفت کی جبکہ تحریک انصاف نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

قومی اسمبلی کا ایک روزہ خصوصی اجلاس بدھ کو سیپکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں وفاقی وزیرِ سائنس و ٹیکنالوجی زاہد حامد نے ملک سے ترمیم شدہ تحفظ پاکستان بل پیش کیا۔

بل پیش کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ دہشت گردوں اور ملک دشمنوں کے خلاف تحفظ پاکستان بل منظوری کے بعد شمالی وزیرستان سمیت پورے ملک میں فی الفور نافذ ہو جائےگا۔

انھوں نے کہا کہ آرڈیننس میں کئی جرائم کو جدولی جرائم قرار دیا گیا ہے جن میں آتش زنی، خودکش دھماکے، محکمۂ صحت کے ارکان کا قتل، دفاعی اور مواصلاتی تنصیبات پر حملے وغیرہ شامل ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ترمیمی بل کے تحت گریڈ 15 سے کم کے افسر کو جدولی جرائم میں ملوث کسی مشکوک شخص پرگولی چلانے کا اختیار حاصل نہیں ہوگا اور کسی کی موت واقع ہونے کی صورت میں اس کی عدالتی تحقیقات لازمی قرار دی گئی ہیں۔

اس کے علاوہ گرفتار ہونے والے ملزمان سے پولیس اور مسلح افواج کو تحقیقات کا اختیار حاصل ہوگا جبکہ ملزمان کو اپنی بےگناہی ثابت کرنے کے لیے عدالتوں تک رسائی حاصل ہوگی۔

زاہد حامد نے بتایا کہ نئی ترامیم کے بعد کوئی بھی ادارہ کسی بھی ملزم کو تحقیقات کے لیے 60 دن سے زیادہ زیرِ حراست نہیں رکھ سکتا جبکہ اس سے قبل یہ مدت نوے دن تک تھی۔

ان کے مطابق ضرورت پڑنے پر عدالتوں کو ان قید خانوں کا نگرانی کرنے کا حق حاصل ہوگا۔

بل کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی مشکوک جگہ کی بغیر وارنٹ تلاشی لے سکیں گے اور اس کے علاوہ موبائل فون کے رابطوں کو بھی بطورِ شہادت پیش کیا جا سکے گا۔

ترامیمی بل کے مطابق اب تین طرح کے ملزم ہوں گے۔ ایک وہ جو غیر ملکی ہیں، جن سے الگ طریقے سے نمٹا جائےگا۔ دوسرے پاکستانی دہشت گرد، جبکہ تیسرے عام ملزم ہوں گے۔

یہ قانون پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی سینٹ سے پہلے ہی بعض ترامیم کے بعد منظور ہو چکا ہے۔

قومی اسمبلی میں رائے شماری کے وقت مسلم لیگ(ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، ایم کیوایم، نیشنل پارٹی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور عوامی مسلم لیگ نے بل کی حمایت کی۔ جماعت اسلامی نے بل کی مخالفت کی جبکہ تحریک انصاف کے ارکان ایوان سے باہر چلے گئے۔

اس بل پر بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شاہ محمود قریشی نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ملک ایک نازک دور سے گزر رہا ہے تاہم انھوں نے سکیورٹی اداروں کے اختیارات میں اضافے کی مخالفت کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی سراسر خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ تحریک انصاف پی پی او پر حکومت کا ساتھ نہیں دے سکتی۔

متحدہ قومی موومنٹ کے پارلیمانی لیڈر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ آخرکار حکومت کو ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی قائم کرنے کے لیے ایسے قوانین لانے کی ضرورت پڑ ہی گئی تاکہ ان قوتوں کے خلاف سخت اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے جنہوں نے پاکستان اور عوام پر جنگ مسلط کر رکھی ہے۔

انھوں نے فوجی آپریشن کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاک فوج ملکی دفاع اور سلامتی کے لیے شمالی وزیرستان میں جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہے اور عوام اور تمام سیاسی جماعتیں پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کے لیے متحد ہو چکے ہیں۔

اگرچہ اس بل پر حزب اختلاف اور انسانی حقوق کی تنظیمیں تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہیں تاہم سینٹ میں اس بل کی حمایت کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے حزب اختلاف کے قائد سینیٹر رضا ربانی نے کہا تھا کہ اگرچہ یہ اب بھی ایک سخت قانون ہے مگر ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر حزب اختلاف نے اس کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔

اسی بارے میں