دو غیر ملکی ایئرلائنوں کی پروازیں بحال، دو کی تاحال معطل

Image caption پشاور ایئرپورٹ پر چند دن پہلے پی آئی اے کی پرواز پر لینڈنگ کے دوران فائرنگ کی گئی تھی

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پولیس کا کہنا ہے کہ پشاور ایئر پورٹ کی حدود میں طیاروں پر حملوں کو روکنے کےلیے نئی چوکیاں قائم کردی گئی ہیں اور قریبی علاقوں کو بھی محفوظ بنایا جا رہا ہے۔

پشاور پولیس کے سربراہ اعجاز احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ باچا خان ایئر پورٹ کی حدود میں سعودی عرب سے آنے والی پرواز پر فائرنگ میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن جاری ہے۔

انھوں نے کہا کہ پولیس کی جانب سے حملہ آوروں کی شناخت کر لی گئی ہے تاہم قبائلی علاقے کی طرف فرار ہونے کی وجہ سے ملزمان کی گرفتاری میں مشکل پیش آ رہی ہے۔

ان کے مطابق ایئرپورٹ کے اردگرد واقع مقامات کو محفوظ بنانے کےلیے گھر گھر تلاشی کی مہم جاری ہے اور اب تک 17 ہزار مکانات کی تلاشی لی گئی ہے اور اس دوران کوئی دو لاکھ کے قریب افراد کا ڈیٹا حاصل کر لیا گیا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ تلاشی کی مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک قبائلی علاقے کی سرحد تک پھیلے ہوئے سارے علاقے کو مکمل طور پر کلئیر نہیں کیا جاتا۔

اعجاز احمد کے مطابق پشاور کے مضافاتی علاقے بڈھ بیر میں تین نئی چوکیاں قائم کر دی گئی ہیں جس سے علاقے طیاروں پر حملوں کو روکنے میں مدد ملے گی۔

پولیس سربراہ کا کہنا تھا کہ باچا خان ایئر پورٹ اور اطراف کے مقامات پر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے دن رات گشت کی جا رہی ہے۔

ادھر دوسری طرف دو غیر ملکی فضائی کمپنیوں نے طیارے پر فائرنگ کے واقعے کے بعد پشاور کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے معطل کی گئی تمام پروازیں دوبارہ بحال کر دی ہیں۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان عابد قائم خانی نے بی بی سی کو بتایا کہ بین الاقوامی فضائی کمپنیوں سعودی ایئر لائنز اور گلف ایئر لائنز نے باچا خان ایئر پورٹ سے چند دن پہلے سکیورٹی خدشات کے باعث آنے جانے والی پروازیں معطل کر دی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ دونوں ایئر لائنز نے سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد اب پشاور ایئر پورٹ سے اپنی تمام پروازوں کو دوبارہ بحال کر دیا ہے۔

تاہم دو دیگر غیر ملکی ایئر لائنز امیریٹس اور اتحاد ایئر لائنز کی جانب سے پشاور سے پروازوں کا سلسلہ بدستور معطل ہے جس سے پشاور آنے جانے والوں مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

خیال رہے کہ تقریباً دس دن قبل پشاور کے بین الاقوامی ہوائی اڈے باچا خان ایئر پورٹ پر سعودی عرب سے آنے والی پی آئی اے کی پرواز پر مسلح افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی تھی جس میں ایک خاتون ہلاک اور عملے کے دو ارکان زخمی ہوگئے تھے۔

اس واقعے کے بعد پولیس نے ایئر پورٹ اور آس پاس کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کا آغاز کیا تھا۔

اسی بارے میں