’تحفظِ پاکستان بل جابرانہ ہے، واپس لیا جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، ایم کیوایم، نیشنل پارٹی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور عوامی مسلم لیگ نے بل کی حمایت کی

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومِن رائٹس واچ نے تحفظِ پاکستان بِل کو جابرانہ قرار دے کر حکومتِ پاکستان سے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان کی قومی اسمبلی نے ملک میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے بنائے جانے والے نئے قانون ’پروٹیکشن آف پاکستان بل 2014 ‘ یا تحفظِ پاکستان بل کو دو جولائی کو کثرتِ رائے سے پاس کیا تھا۔ یہ بل دو سال کے لیے نافذ العمل ہو گا۔

اِس بل پر عنقریب صدارتی دستخط متوقع ہیں جن کے بعد یہ بِل قانون کی حیثیت سے نافذ ہو جائے گا۔

’دہشتگردوں‘ سے نمٹنے کا قانون پارلیمنٹ سے منظور

شدت پسند کون ہے؟

ہیومِن رائٹس واچ کی طرف سے تین جولائی کو نیو یارک سے جاری ایک بیان میں تحفظِ پاکستان بِل کو جابرانہ قرار دے کر اِسے واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دو جولائی کو پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینٹ کی جانب سے منظور ہونے والا انسدادِ دہشتِ گردی کا یہ قانون بنیادی انسانی حقوق اور آزادی کے متعلق پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے۔

ہیومِن رائٹس واچ میں ایشیائی امور کے ڈائریکٹر فیلِم کائن نے کہا ہے کہ انسدادِ دہشتِ گردی کا یہ قانون مبہم ہے اور اِس کا دائرۂ کار بہت وسیع ہے، جو حِراست میں موجود مشتبہ افراد کے استحصال کا موقع فراہم کرے گا اور ایسا استحصال پاکستان میں پہلے ہی بہت عام ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’وزیرِ اعظم نواز شریف اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ اس قانون کے بجائے ایسا قانون لائیں جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بنیادی انسانی حقوق کی حفاظت کرتا ہو۔‘

ہیومِن رائٹس واچ کی جانب سے اِس قانون کی مخالفت کی بنیاد بظاہر انٹرنیشنل کووننٹ آن سِول اینڈ پولیٹیکل رائٹس یا آئی سی سی پی آر ہے، یعنی شہری اور سیاسی حقوق کا بین الاقوامی معاہدہ جس کی پاکستان نے سنہ 2010 میں توثیق کی تھی۔

ہیومِن رائٹس واچ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تحفظِ پاکستان قانون آزادیِ اظہار، ذاتی زندگی اور پُرامن اکٹھے ہونے جیسے بنیادی حقوق کو پامال کرے گا جبکہ آئی سی سی پی آر اِن حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔

ہیومِن رائٹس واچ نے 17 جون کو لاہور میں پیش آنے والے اس واقعے کا حوالہ دیا ہے جس میں پولیس اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کے درمیان تصادم ہوا تھا۔ اس واقعے میں محض سکیورٹی کے لیے لگائے گئے بیریئروں کے تنازعے پر اور پولیس کی فائرنگ سے آٹھ افراد مارے گئے۔

اس واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ اگرچہ پاکستان اِس نئے قانون کے تحت شمالی وزیرستان میں جاری فوجی کارروائی اور انسدادِ دہشت گردی کے لیے سکیورٹی فورسز کو بھرپور معاونت دینا چاہتا ہے، لیکن اِنھی سکیورٹی فورسز کی جانب سے خطرے کے شبے کی صورت میں طاقت کے بے جا استعمال کی بھی تاریخ موجود ہے۔

یاد رہے کہ بدھ کو قومی اسمبلی کے ایک روزہ خصوصی اجلاس میں پاکستان کے وفاقی وزیرِ برائے سائنس و ٹیکنالوجی زاہد حامد نے ترمیم شدہ تحفظ پاکستان بل پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ دہشت گردوں اور ملک دشمنوں کے خلاف تحفظ پاکستان بل کی منظوری کے بعد شمالی وزیرستان سمیت پورے ملک میں فی الفور نافذ ہو جائےگا۔

قومی اسمبلی میں رائے شماری کے وقت مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، ایم کیو ایم، نیشنل پارٹی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور عوامی مسلم لیگ نے بل کی حمایت کی۔ جماعت اسلامی نے بل کی مخالفت کی جبکہ تحریک انصاف کے ارکان ایوان سے باہر چلے گئے۔

ہیومِن رائٹس واچ نے اپنے بیان میں تحفظِ پاکستان کی پانچ شقوں کی نشاندہی کی ہے جن کے باعث بقول تنظیم کے، شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے آئی سی سی پی آر کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

دہشت گردی کی کارروائی کی تعریف مبہم ہے، مثلاً قتل، اِغوا یا اِغوا برائے تاوان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کس صورت میں ایسی کارروائیاں دہشت گردی ہوں گی اور تحفظِ پاکستان بِل کے زیرِ اثر ہوں گی۔

ہیومِن رائٹس واچ نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ اِس قانون کے ذریعے انٹرنیٹ یا انفارمیشن ٹیکنالوجی سے منسلک جرائم یا انٹرنیٹ پر ہونے والے کسی بھی پرامن احتجاج پر پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرے کا ٹھپہ لگا کر دہشت گردی قرار دیا جا سکتا ہے۔

ہیومِن رائٹس واچ کے نزدیک پولیس اور سکیورٹی فورسز کو بغیر وارنٹ کے گرفتار کرنے کا اختیار دے دینا بھی آئی سی سی پی آر کی شق 17 کی خلاف ورزی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق اِس طرح تحفظِ پاکستان بِل میں ثبوت فرام کرنے کی ذمہ داری ملزم پر عائد کر دی گئی ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ اُس سے بے گناہ ہونے کا وہ حق چھین لیا گیا ہے۔ جب تک وہ مجرم ثابت نہ ہو اور اِس بے گناہی کی ضمانت آئی سی سی پی آر کی شِق 14 میں دی گئی ہے۔

پانچویں شق جس پر سوال اُٹھایا گیا ہے، وہ ہے حکومت کے پاس حِراست، تفتیش، تحقیق اور مقدمے کی کارروائی کے مقام چُننے کا اختیار۔ ہیومِن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ تحفظِ پاکستان بِل میں یہ موجود یہ اختیار، موجودہ عدالتی نظام کو نظرانداز کر سکتا ہے جو بین الاقوامی شہری اور سیاسی حقوق کے معاہدے کی شِق نو کی خلاف ورزی ہو گی۔

تنظیم نے پاکستان میں انسدادِ دہشت گردی کے متعلق قابلِ عمل قوانین کی ضرورت کا اعتراف کیا ہے لیکن ساتھ ہی زور دیا ہے کہ قوانین ایسے ہوں جو بنیادی انسانی حقوق سے متصادم نہ ہوں۔

ہیومِن رائٹس واچ کے ایشیائی امور کے ڈائریکٹر فیلِم کائن نے کہا ہے کہ پاکستانیوں کو اُن کے عالمگیر حقوق اور آزادیوں سے محروم کر دینا دہشت گردوں کی جیت اور قانون کی بالادستی کی ہار ہو گی۔

اُن کا کہنا ہے کہ حکومت تحفظِ پاکستان بِل کے اثرات کا ازسرِ نو جائزہ لے اور مقامی اور بین الاقوامی ماہرین سے مشاورت کر کے ایسی ترامیم کرے جو عوام کو تحفظ دیں، نہ کہ اُن کے حقوق کو قربان کریں۔

اسی بارے میں