اینجیو گرافی یا ٹوٹا دل؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP

پاکستان کے وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان جمعے کے روز بھی نا تو دفتر آئے اور نا ہی انھوں نے وزیراعظم کی زیر صدارت حکمران جماعت کے ایک مشاورتی اجلاس میں شرکت کی، جس سے اس خیال کو مزید تقویت ملی ہے کہ مسلم لیگ نواز کے یہ اہم رکن ان دنوں زیادہ خوش نہیں ہیں۔

سول حکومت میں وزیراعظم کے بعد دوسرے اہم ترین عہدیدار سمجھے جانے وفاقی وزیر داخلہ، شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے صرف ایک دن دفتر آئے تھے جب انہوں نے پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری کی پاکستان آمد کے موقعے پر وفاقی دارالحکومت میں حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس میں شرکت کی تھی۔

پاکستانی افواج نے بظاہرطالبان شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد سولہ جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ اس کارروائی سے دو روز قبل چوہدری نثار علی خان کی راولپنڈی میں ادارہ امراض قلب میں انجیوگرافی کی گئی تھی۔

رپورٹس کے معائنے کے بعد معالجوں نے چوہدری نثار کو مکمل طور پر صحت مند قرار دے کر ہسپتال سے گھر روانہ کر دیا تھا۔

اس کے بعد سے چوہدری نثار دفتر نہیں آئے اور نہ ہی وزیراعظم کی زیرسربراہی کسی بھی اجلاس میں موجود نظر آئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اہم نوعیت کا ایک اجلاس جمعے کے روز وزیراعظم کی زیرصدارت ایوان وزیراعظم میں ہوا جس میں بعض وفاقی وزرا اور مسلم لیگ ن کے چند سینئر عہدیداروں نے شرکت کی۔

روایتی طور پر چوہدری نثار اس مشاورت کا اہم حصہ ہوتے ہیں اور اجلاس کے دوران وزیراعظم کی ساتھ والی نشست پر براجمان ہوتے ہیں۔ تاہم جمعے کے روز اس اجلاس کے شرکا کے مطابق، ان کی کمی محسوس کی گئی۔

اس اجلاس میں وزیرستان آپریشن کے علاوہ بعض دیگر اہم قومی امور پر طویل تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس خاموشی اور ناراضی کے بارے میں سیاسی حلقوں میں مختلف قسم کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ مسلم لیگ نواز کے حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ چوہدری نثار علی خان وزیرستان اور پرویز مشرف کے معاملے پر اپنی رائے کو مبینہ طور پر اہمیت نہ دیے جانے پر وزیراعظم نواز شریف سے نالاں ہیں، جبکہ ان کے قریبی حلقے اس غیر حاضری کی وجہ ان کی طبیعت کی ناسازی کو قرار دیتے ہیں۔

جبکہ ان کی اس مسلسل غیر حاضری نے ان کی وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ ناراضی کے تاثر کو ہوا دی ہے۔ ان خبروں کو اس وقت زیادہ اہمیت ملی جب حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے ایک وفد نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی سربراہی میں دو روز قبل چوہدری نثار سے ملاقات کی اور ان سے قومی سیاسی افق پر واپس آنے کی درخواست کی۔ اس ملاقات کے فوراً بعد نثار علی خان نے بعض صحافیوں سے ملاقات کی اور ناراضی کے تاثر کو دور کرنے کی کوشش کی۔

لیکن وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ آج بھی اپنے دفتر نہیں آئے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی ناراضی ابھی تک برقرار ہے۔

اس بے عملی اور ناراضی کے بارے میں سیاسی حلقوں میں مختلف قسم کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ مسلم لیگ نواز کے حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ چوہدری نثار علی خان وزیرستان اور پرویز مشرف کے معاملے پر وزیراعظم کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے میں ناکامی پر ان سے نالاں ہیں۔

دوسری جانب مسلم لیگی حلقوں کا کہنا ہے کہ چوہدری نثار علی خان وزیرستان میں فوجی آپریشن میں کچھ تاخیر چاہتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اگر چند ہفتے اور مل جاتے تو وہ طالبان شدت پسندوں کی اکثریت کو ہتھیار ڈالنے پر رضا مند کر لیتے۔

اسی طرح سابق صدر پرویز مشرف کے معاملے میں چوہدری نثار علی خان سمجھتے ہیں کہ ان کا ملک سے باہر چلے جانا ملک اور حکومت کے مفاد میں ہے۔

اسی بنا پر انہوں نے بعض مشترکہ دوستوں کے ذریعے پرویز مشرف کو اس بات پر راضی کیا تھا کہ وہ بغاوت مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کے سامنے پیش ہو کر فرد جرم عائد کیے جانے کا عمل مکمل ہونے میں حکومت کی معاونت کریں۔ اس کے بدلے، چوہدری نثار نے پرویز مشرف کی بیرون ملک روانگی کی درخواست کی مخالفت نہ کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

لیکن جب پرویز مشرف کی جانب سے والدہ کی علالت کے باعث بیرون ملک روانگی کی اجازت کی درخواست وزارت داخلہ کو موصول ہوئی تو وزیراعظم نے اس پر عمل کرنے کی بجائے اس متعلقہ عدالت کے حوالے کر دیا جہاں وہ مسترد ہو گئی۔

چوہدری نثار علی خان کے قریبی ذرائع بتاتے ہیں کہ انہوں نے ان دونوں معاملات پر وزیراعظم کے ساتھ براہ راست بات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ جمعے کی شب لاھور روانہ ہو گئے ہیں جہاں سنیچر کے روز ان کی وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات متوقع ہے۔

اسی بارے میں