مانسہرہ: افغان مہاجرین کے خلاف احتجاجی مظاہرے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ان مظاہروں کے بعد افغان باشندوں میں خوف پایا جا رہا ہے اور وہ اپنے کیمپوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں

مانسہرہ میں پولیس حکام کے مطابق گذشتہ روز افغان باشندے کے ہاتھوں قتل ہونے والے سوزوکی ڈرائیور کے قتل کے خلاف شہر میں احتجاجی مظاہروں ہوئے۔

مشتعل مظاہرین نے مختلف مقامات پر سڑکوں کو کئی گھنٹوں تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر کے دھرنا دیا۔

مظاہرین نے افغان مہاجرین کو ضلع بدر کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

مانسہرہ کے ایک مقامی رہائشی عطاللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعے کے بعد مقامی افراد میں افغان مہاجرین کے خلاف غم وغصہ پایا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق مظاہرین نے افغان مہاجرین کی چار دکانوں اور دس سے زائد فروٹ اور سبزیوں کے ٹھیلوں کو نذرِ آتش کر دیا۔

ان مظاہروں کے بعد افغان باشندوں میں خوف پایا جا رہا ہے اور وہ اپنے کیمپوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔

مانسہرہ تھانہ سٹی کے محرر عدیل نے بی بی سی کو بتایا کہ مظاہروں کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب افغان مہاجر خیر اللہ نے معمولی تکرار پر سوزوکی ڈرائیور محمد شفقت کو چھری کے وار سے ہلاک کردیا۔

محرر عدیل کے مطابق پولیس نے افغان مہاجر خیراللہ کو گرفتار کر لیا تاہم کچھ شرپسند عناصر اشتعال پھیلا رہے ہیں۔

محرر کا کہنا تھا کہ مظاہرین نے افغان مہاجرین کی املاک کو جلانے کی کوشش کی تاہم پولیس کی بروقت کارروائی کے باعث زیادہ نقصان نہیں ہوا۔

محرر عدیل کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے ضلعے میں موجود افغان مہا جرین کے کیمپوں کی حفاظت کے لیے اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

مقامی افراد نے بتایا کہ مظاہرین نے انتظامیہ کو 22 گھنٹے کا وقت دیا ہے کہ وہ افغان مہاجرین کو ضلع بدر کردیں بصورت دیگر وہ خود ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔

اسی بارے میں