کراچی: فرقہ وارانہ تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اہل سنت و الجماعت کے کارکنوں نے یونیورسٹی روڈ پر دھرنہ دیکر ٹریفک کو معطل کر دیا

پاکستان کے سب سے بڑے کراچی میں کچھ ماہ کی خاموشی کے بعد ایک بار پھر فرقہ ورانہ تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

اتوار کو مختلف واقعات میں مذہبی جماعتوں کے تین کارکن ہلاک ہوگئے جبکہ رینجرز نے دو مبینہ دہشت گروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔

نامعلوم افراد نے اولڈ سبزی منڈی کے علاقے پی آئی بی کالونی میں فائرنگ کی جس کے نتیجے میں قاری عبدالرحیم اور نور زمان نامی دو افراد زخمی ہوگئے جنہیں ہپستال منتقل کیا جا رہا تھا کہ وہ راستے میں دم توڑ گئے۔

قاری عبدالرحیم اہل سنت و الجماعت کے مقامی رہنما تھے، ان کی ہلاکت کی خبر ملتے ہی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد اولڈ سبزی منڈی پہنچ گئی اور یونیورسٹی روڈ پر دھرنہ دیکر ٹریفک کو معطل کر دیا۔

یہ احتجاج کئی گھنٹے جاری رہا بعد میں ایس ایس پی پیر محمد شاہ نے مظاہرین سے مذاکرات کیے جس میں ایس ایچ او، پی آئی بی کالونی کو معطل اور مقدمہ ورثا کی مرضی کے تحت دائر کرنے کی یقین دہانی کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا۔

دوسری جانب گلشنِ اقبال کے علاقے موسمیات چوک پر موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 40 سالہ سلیم ہلاک ہوگیا۔ سچل پولیس کے مطابق مقتول تبلیغی جماعت کا رکن تھا۔

اسی طرح سرجانی ٹاؤن میں ایک دکان پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک 35 سالہ شخص خرم ہلاک ہوگیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول کا تعلق شدت پسند تنظیم سے تھا۔

دریں اثنا پير آباد میں رینجرز کے ساتھ مقابلے میں دو مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ پولیس نے ان کے قبضے سے دو دستی بم، ہتھیار اور موٹر سائیکل برآمد کرنے کا دعویٰ کیا۔

رینجرز ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی شناخت خالد جان اور ذیشان کے نام سے ہوئی جو بنارس اور اورنگی کے علاقوں میں پولیس اہلکاروں کے قتل کی وارداتوں میں ملوث تھے۔

اسی بارے میں