’بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں سے اپیل کی ضرورت نہیں‘

Image caption متاثرین کی امداد کے آپریش کی نگرانی عبدالقادر بلوچ کر رہے ہیں

پاکستان میں ریاستوں اور شمالی علاقہ جات (سیفران) کے وزیر عبدالقادر بلوچ نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان کے متاثرین کی امداد کے لیے کسی بین الاقوامی امدادی ایجنسی پر کوئی پابندی نہیں ہے، لیکن حکومت کسی بین الاقوامی امدادی ایجنسی سے مدد کی اپیل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔

بی بی سی اردو سروس کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حکومت کے پاس نقل مکانی کر کے آنے والوں کی امداد کے لیے مناسب وسائل موجود ہیں اور بین الاقوامی امدادی ایجنسی سے اپیل کی ضرورت نہیں ہے۔

نقل مکانی کرنے والے افراد کی تعداد کےبارے میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اب تک 778000 افراد کا اندارج کر لیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ 61 ہزار گھرانے نقل مکانی کر کے آئے ہیں۔

افغانستان جانے والے افراد کے بارے میں انھوں نے کہا کہ افغانستان جانے والے افراد کی تعداد بہت کم ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ابتدائی اندراج کے بعد نادرا کے ڈیٹا سے اس کا تقابلی جائزہ کرنے کے بعد ہی متاثرین کی کل تعداد کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہا جا سکے گا۔

متاثرین کے لیے پیشگی انتظامات کیوں نہیں کیے گئے؟ انھوں نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت بڑی سنجیدگی اور نیک نیتی سے بات چیت کا راستہ اختیار کیے ہوئے تھی۔ انھوں نے کہا کہ ان کے ذہن میں بھی نہیں تھا کہ نقل مکانی کی نوبت آئے گی۔

Image caption آئی ڈی پیز کو خوراک کے پیکیج مہیا کیے جا رہے ہیں

انھوں نے کہا کہ پرامن طریقے سے اس مسئلے کا حل ڈھونڈنے کی حکومتی کوششیں بدقسمتی سے کامیاب نہیں ہو سکیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر وہ پہلے سے متاثرین کی امداد کی کوششیں شروع کر دیتے تو بات چیت کے بارے میں حکومت کی نیت پر سوالات اٹھنے شروع ہو جاتے۔

عبدالقادر بلوچ کو وزیر اعظم کی طرف سے متاثرین کی امدادی کارروائیوں کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ انھوں نے اس تاثر کی پرزور انداز میں تردید کی کہ متاثرین تک امداد نہیں پہنچ رہی۔

ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ فوج کا 45 انجینیئر بریگیڈ امدادی کاموں میں حکومت کا ہاتھ بٹا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس بریگیڈ کی امن کی حالت میں کوئی زیادہ مصروفیت نہیں ہوتی اور اس کا شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن میں بھی کوئی کردار نہیں ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہی 45 ڈویژن سوات کے متاثرین کی امداد کے لیے بھی خدمات انجام دے چکا ہے اور ان کو بے گھر افراد کی امداد کے کاموں کو وسیع تجربہ ہے۔

متاثرین کی امداد کے لیے مختص بجٹ کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ مالی وسائل کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ وزیرستان کے لوگوں نے 18 کروڑ عوام کے امن اور سکون کے لیے اپنا گھر بار چھوڑا ہے اور گرمی کے شدید موسم میں وہ آٹھ ہزار اور نو ہزار فٹ کی بلندی سے ہجرت کر کے آئے ہیں۔