بلوچستان سے مزید پانچ تشدد زدہ لاشیں برآمد

Image caption بلوچستان میں لاپتہ افراد اور تشدد زدہ لاشیں ملنے کے واقعات کے خلاف کئی بار احتجاج ہو چکا ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے پانچ افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

پانچ میں سے دو افراد کی لاشیں کوئٹہ کے علاقے ترخہ اور کچلاک سے جبکہ ایک شخص کی لاش افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن سے بر آمد ہوئی ہیں۔

بروری پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار نے بتایا کہ لاش پر تشدد کے نشانات تھے جسے شناخت کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ چمن سے بر آمد ہونے والی لاش بوری میں بند تھی۔

ابھی تک لاشوں کی شناخت نہیں ہو سکی ہے اور نہ ہی ملزمان کی نشاندہی اور ان کی گرفتاری عمل میں آ سکی ہے۔

اس سے پہلے دو افراد کی لاشیں پیر اور منگل کی درمیانی شب کو پشین کے علاقے خانوزئی سے بر آمدہوئی تھیں۔

کوئٹہ میں لیویز کنٹرول کے ایک اہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں افراد کو سر میں گولیاں ماری گئی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان افراد کو ہلاک کرنے کی بعد ان کی لاشیں اس علاقے میں پھینکی گئی تھیں۔

گذشتہ چھ روز کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں سے تشدد زدہ لاشوں کے برآمد ہونے کا یہ چھٹا واقعہ ہے۔

اس سے قبل پشین کے علاقے یارو اور ایران سے متصل بلوچستان کے ضلع پنجگور سے چار افراد کی لاشیں بر آمد ہوئی تھیں۔

رواں ماہ کے آغاز کے ساتھ ہی صوبے کے مختلف علاقوں سے لاشوں کے ملنے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

بلوچستان میں اس نوعیت کے واقعات کا آغاز سال 2008 میں شروع ہوا تھا جبکہ سپریم کورٹ کے حکم پر حکومت نے لاشوں کی برآمدگی سے متعلق مقدمات کے اندراج کا سلسلہ 2010 سے شروع کیا۔

حکومتِ بلوچستان کے محکمۂ داخلہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2010 سے ستمبر2013 تک261 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

دوسری جانب لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز نے ان اعداد و شمار کو مسترد کیا ہے۔

تنظیم کے وائس چیئرمین قدیر بلوچ کا دعویٰ ہے کہ تشدد زدہ لاشوں کی تعداد 2 ہزار کے لگ بھگ ہے جبکہ بلوچستان کی موجودہ حکومت کا یہ دعویٰ ہے کہ ماضی کے مقابلے میں لاشوں کی برآمدگی کے واقعات میں کمی آئی ہے۔

اسی بارے میں