نیکٹا کے سربراہ کی تقرری کالعدم قرار دے دی گئی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وزارتِ داخلہ کے چار افسران نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں خواجہ عامر کی تعیناتی اور ان کی جانب سے کیے جانے والے فیصلوں کو چیلنج کیا گیا تھا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے انسدادِ دہشت گردی کے قومی ادارے یعنی نیکٹا کے سربراہ عامر اشرف خواجہ کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے، جبکہ ان کی جانب سے کیے جانے والے تمام فیصلے بھی کالعدم قرار دے دیے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج نور الحق قریشی نے بدھ کو اس ضمن میں دائر ہونے والی مختلف درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اس ادارے کے سربراہ کی تعیناتی قواعد وضوابط سے ہٹ کر کی گئی تھی۔

عدالت نے اپنے حکم میں نیکٹا کو وزراتِ داخلہ کے ماتحت کرنے سے متعلق نوٹیفکیشن بھی کالعدم قرار دیتے ہوئے اس ادارے کو دوبارہ وزیرِاعظم سیکریٹیریٹ کے ماتحت کرنے کو کہا ہے۔

موجودہ حکومت نے ملک میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے انسدادِ دہشت گردی کے ادارے کو متحرک کیا تھا اور اس ضمن میں فوج اور سویلین خفیہ اداروں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ شدت پسندوں سے متعلق خفیہ معلومات نیکٹا کو فراہم کریں، تاکہ خفیہ اداروں میں رابطوں کو بہتر بنایا جا سکے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کے مطابق اس وقت ملک میں 26 کے قریب فوجی اور سویلین خفیہ ادارے کام کر رہے ہیں اور ان میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کا فقدان ہے۔

وفاقی حکومت نے گذشتہ برس نیکٹا کو وزارتِ داخلہ کے ماتحت کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا اور گریڈ 20 کے افسر عامر اشرف خواجہ کو نیکٹا میں بطور ممبر تعینات کیا تھا اور پھر بعد ازاں انھیں اس ادارے کا رابطہ کار مقرر کر دیا گیا جس پر قواعد کے مطابق 22 ویں گریڈ کا افسر ہی تعینات ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ وزارتِ داخلہ کے ادارے نیشنل کرائسس مینجمنٹ سیل کو بھی ختم کر کے اس کو بھی نیکٹا میں ضم کر دیا گیا تھا۔

وزارتِ داخلہ کے چار افسروں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں خواجہ عامر کی تعیناتی اور ان کی جانب سے کیے جانے والے فیصلوں کو چیلنج کیا گیا تھا۔

ان درخواستوں میں کہا گیا تھا کہ اس ادارے کے رابطہ کار کے عہدے کے لیے اس شخص کی سکیورٹی کلیرنس خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن اس ضمن میں اس معاملے کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ان درخواستوں میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ نیکٹا کے قومی رابطہ کار (نیشنل کوارڈینیٹر) کے عہدے کے لیے اشتہار دیا جائے گا اور اس ضمن میں ایک بورڈ بھی تشکیل دیا جائے گا جو امیدواروں کے انٹرویو لے گا، لیکن عامر اشرف خواجہ کی تقرری میں تمام قواعد وضوابط کو نظر انداز کر دیا گیا۔

اسی بارے میں