’امداد کے لیے غلط بیانی اور بار بار رجسٹریشن‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ابتدائی طور پر معلوم ہوا ہے کہ اندراج کیے گئے متاثرین میں 15 ہزار کے قریب جعلی خاندان ہیں: حکام

پاکستان میں حکام کے مطابق قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے خاندانوں کی طرف سے خود کو بار بار رجسٹرڈ کیے جانے اور بعض خاندانوں کی جانب سے غلط بیانی کرنے کے باعث اندراج کیے گئے متاثرین کی مجموعی تعداد تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے۔

فاٹا میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے ایف ڈی ایم اے کے ترجمان حسیب خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ متاثرین زیادہ سے زیادہ امداد حاصل کرنے کے چکر میں بار بار خاندان سمیت اپنا اندارج کراتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایسے ایسے خاندان بھی ہیں جو چار چار اور پانچ پانچ مرتبہ رجسٹریشن کرا چکے ہیں جس کی وجہ سے تقریباً 30 سے 40 فیصد افراد غلطی سے مجموعی ریکارڈ کا حصہ بن گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تصدیق شدہ اور حتمی ڈیٹا آنے کے بعد متاثرین کی مجموعی تعداد کم ہو جائے گی۔

اہلکار نے مزید کہا کہ اب تک شمالی وزیرستان کے 30 ہزار خاندانوں کی تصدیق نادار سے کرائی جا چکی ہے تاہم حکومت کی کوشش ہے کہ اس عمل کو مزید تیز کیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اب تک شمالی وزیرستان کے 30 ہزار خاندانوں کی تصدیق نادار سے کرائی جا چکی: حکام

حسیب خان کے مطابق بنوں اور پشاور میں بھی متاثرین کے اندارج کا عمل بدستور جاری ہے اور یہ مرحلہ آئندہ چند دنوں میں اختتام کو پہنچ جائے گا۔

دریں اثناء بنوں میں حکام کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان سے بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد نو لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے۔

بنوں میں کمثنر آفس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کی شام تک 838866 افراد کا اندارج کیا گیا جن میں 67557 خاندان شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر معلوم ہوا ہے کہ اندراج کیے گئے متاثرین میں 15 ہزار کے قریب جعلی خاندان ہیں جو یا تو پہلے سے ریکارڈ کا حصہ ہیں یا پھر شمالی وزیرستان کی بجائے دیگر علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

تاہم اہلکار کے مطابق متاثرین کا تمام ریکارڈ تصدیق کے لیے نادرا کو بھیجوایا جا چکا ہے اور آئندہ چند دنوں تک متاثرین کی حتمی اور تصدیق شدہ ڈیٹا سامنے آ جائے گا جس کے بعد اس میں کوئی رد وبدل نہیں کر سکے گا۔

خیال رہے کہ شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب کے باعث لاکھوں افراد گھر بار چھوڑ کر بنوں اور آس پاس کے علاقوں میں پناہ گزین ہیں۔

حکومت کی جانب سے ایف آر بکاخیل کے علاقے میں متاثرین کیمپ بنایا گیا ہے تاہم کیمپ میں سہولیات کے فقدان کے باعث وہاں اب تک چند خاندان ہی جا سکے ہیں جبکہ بیشتر متاثرین اپنے طور پر کرائے کے مکانات، رشتہ داروں یا دوستوں کے ہاں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔

اسی بارے میں