’میران شاہ کا 80 فیصد علاقہ طالبان سے صاف‘

Image caption طالبان سارے علاقے میں بارودی سرنگیں لگا گئے ہیں

طالبان کے خلاف فوجی کارروائی ضرب عضب کی کمان کرنے والے میجر جنرل ظفر خان نے کہا کہ شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ کے 80 فیصد علاقے کو طالبان سے صاف کر دیا گیا ہے اور ان کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو تتربتر کر دیا گیا ہے۔

وزیرستان کے صحافیوں کے دورے کے دوران بی بی سی سے بات کرتے ہوئے میجر جنرل ظفر خان نے کہا کہ اس علاقے کو سو فیصد سیل کرنا ممکن نہیں ہے، لیکن جو عناصر یہاں سے نکل گئے ہیں انھیں علاقے میں واپس آنے نہیں دیا جائے گا۔

شمالی وزیرستان میں فوج کے کمانڈر نے کہا کہ وہ اس بات کا تعین نہیں کرسکتے کہ یہ آپریشن کتنے ہفتوں یا مہینوں میں مکمل کر لیا جائے گا اور اس سلسلے میں کوئی تاریخ دینا قبل از وقت ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ انھیں احساس ہے کہ لاکھوں افراد اس آپریشن سے متاثر ہوئے ہیں لیکن پوری قوم کو یہ سب کچھ مل کر برداشت کرنا ہوگا۔

نامہ نگار کے مطابق میران شاہ میں بازار کے دورے کے دوران اس بات کا احساس ہوا کہ جیسے پورا علاقہ ہیبت کا شکار ہو۔

انھوں نے بتایا کہ بہت سے دکانوں کے آدھے شٹر بند تھے اور ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے دکاندار جلدی میں آدھی دکانیں کھلی چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ طالبان جاتے جاتے پوری علاقے میں بارودی سرنگیں لگا گئے ہیں جن سے فوج کو پیش قدمی اور نقل و حرکت میں دشواریوں کا سامنا ہے اور ان سرنگوں کو صاف کرنے میں بہت وقت صرف ہو رہا ہے۔

وزیرستان کے صحافیوں کے دورے کے دوران بی بی سی سے بات کرتے ہوئے میجر جنرل ظفر خان نے کہا کہ اس علاقے کو سو فیصد سیل کرنا ممکن نہیں ہے لیکن جو عناصر یہاں سے نکل گئے ہیں انھیں علاقے میں واپس آنے نہیں دیا جائے گا۔

شمالی وزیرستان میں فوج کے کمانڈر نے کہا کہ وہ اس بات کا تعین نہیں کر سکتے کہ یہ آپریشن کتنے ہفتے یا مہینوں میں مکمل کر لیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ تاریخ دینا قبل از وقت ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ انھیں احساس ہے کہ لاکھوں افراد اس آپریشن سے متاثر ہوئے ہیں لیکن پوری قوم کو یہ سب کچھ مل کر برداشت کرنا ہوگا۔

شمالی وزیرستان کا دورہ کرنے والے صحافیوں میں شامل بی بی سی کے ہارون رشید نے بتایا کہ میران شاہ میں بازار کے دورے کے دوران اس بات کا احساس ہوا کہ جیسے پورا علاقہ ہیبت کا شکار ہو۔

انھوں نے بتایا کہ بہت سے دکانوں کے آدھے شٹر بند تھے اور ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے دکاندار جلدی میں آدھی دکانیں کھلی چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ طالبان جاتے جاتے پوری علاقے میں بارودی سرنگیں لگا گئے ہیں جن سے فوج کو پیش قدمی اور نقل و حرکت میں دشواریوں کا سامنا ہے اور ان سرنگوں کو صاف کرنے میں بہت وقت صرف ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں