’شمالی علاقے میں ڈرون حملے کی تصدیق نہیں ہوئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ PFO
Image caption شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کی بحالی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے: تسنیم اسلم

پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہ شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل میں مبینہ طور پر ہونے والے امریکی ڈرون حملے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق شمالی وزیرستان ایجنسی کی تحصیل دتہ خیل میں امریکی جاسوس طیارے نے ایک گاڑی کو نشانہ بنایا ہے جس میں چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

وزارتِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے جمعرات کو اسلام آباد میں صحافیوں کو ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان نے ماضی میں ہمیشہ امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں کی مذمت کی ہے۔

تسنیم اسلم کے مطابق ماضی میں ہونے والے حملوں کے خلاف پاکستان نے جو رائے عامہ بنائی اس کے بعد ان حملوں میں کمی واقع ہوئی تھی۔

انھوں نے ڈرون حملوں کے معاملے کو عالمی سطح پر اٹھانے کا عندیہ دیتے ہوئےکہا کہ یہ حملے عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہیں۔

تسنیم اسلم نے کہا کہ جب پاکستان میں آخری امریکی ڈرون حملہ ہوا تھا تو اس وقت بھی پاکستان نے امریکہ سے سخت احتجاج کیا تھا۔

بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے حالیہ دورۂ کشمیر سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ بھارتی وزیرِ اعظم کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے موقعے پر دونوں وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات میں کشمیر، لائن آف کنٹرول اور دیگر تنازعات پر تفصیل سے تبادلۂ خیال ہوا تھا جس کے بعد دونوں ممالک کےسیکرٹری خارجہ کی سطح پر مذاکرات جلد متوقع ہیں۔

چین کے صوبہ سنکیانگ میں حکومت کی جانب سے مسلمانوں کو روزہ رکھنے سے روکنے کے بارے میں ایک سوال پر تسنیم اسلم نے ان اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ جب اس بارے میں چین سے رابطہ کیا گیا تو چینی حکام نے بتایا کہ چین میں تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنے مذہبی عقائد کے مطابق عبادت کرنے کی مکمل آزادی ہے۔

شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کی بحالی کے لیے کسی عالمی ادارے سے امداد کی اپیل کرنے کے بارے میں ایک اور سوال کے جواب میں ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ بے گھر ہونے والے افراد کی بحالی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے اور حکومت اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے متاثرین کی بھرپور مدد کر رہی ہے۔

اسی بارے میں