پاکستان سے دس مبینہ شدت پسند گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فائرنگ کے نتیجے میں کچھ شدت پسند ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں: ایس ایس پی نوید خان

پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملک کے مختلف علاقوں میں خفیہ اداروں کی نشاندہی پر غیر قانونی شدت پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے دس افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

حکام کے مطابق گرفتار کیے جانے والے افراد میں تین ایسے افراد بھی شامل ہیں جنھیں سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے ہائی ویلیو ٹارگٹ قرار دیا گیا تھا۔

شمالی علاقہ جات میں واقع شہر چلاس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشتر گاؤں کے قریب واقع جنگل میں سرچ آپریشن کے دوران چار افراد کو حراست میں لے لیا۔

ان افراد کا تعلق غیر قانونی شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے بتایا جا رہا ہے اور حکام کے مطابق یہ پشاور میں پولیس چیک پوسٹوں پر حملوں کے علاوہ قصہ خوانی بازار میں ہونے والے بم دھماکوں میں بھی ملوث رہے ہیں۔

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو گرفتار ہونے والے افراد میں امیر چنگیزی، حمزہ شنواری اور شیردل کے ناموں کی تصدیق کی ہے۔

اہلکار کے مطابق ان افراد کا تعلق تحریک طالبان باجوڑ سے ہے اور یہ افراد شدت پسندی کی کارروائیوں کی نہ صرف منصوبہ بندی کرتے تھے بلکہ اس ضمن میں ان منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے افراد کا انتخاب بھی ان کے فرائض میں شامل تھا۔

ایس ایس پی چلاس نوید خان نے کہا کہ کچھ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں ان میں ملزمان کے رشتہ دار بھی شامل ہیں جو گذشتہ برس نانگا پربت میں غیر ملکیوں کوہ پیماؤں کو قتل کرنے کے واقعے میں ملوث ہیں۔

ان غیر ملکیوں میں پانچ یوکرائنی، تین چینی جبکہ ایک امریکی باشندہ شامل تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اس سرچ آپریشن کے دوران شدت پسندوں کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر فائرنگ ہوئی تھی جس کے جواب میں پولیس نے بھی فائر کیے تھے۔

نوید خان کا کہنا تھا کہ اس فائرنگ کے نتیجے میں کچھ شدت پسند ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں جن کی تلاش کا کام جاری ہے۔

یاد رہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نانگا پربت پر غیر ملکیوں کے قتل کے واقعے میں اب تک پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے ان سے ابھی تک کسی نامعلوم مقام پر تفتیش ہو رہی ہے اور اسی کے نتیجے میں ان افراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔

آئی جی گلگلت بلتستان سلیم بھٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے نتیجے میں وہاں سے ممکنہ طور پر کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کو علاقے میں داخلے سے روکنے کے لیے مربوط پالیسی مرتب کر لی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گرفتار کیے جانے والے افراد میں ناگا پربت واقعے میں مطلوب افراد کے رشتہ دار بھی شامل ہیں

انھوں نے کہا کہ خفیہ اداروں کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کے بااثر افراد کو بھی شامل کیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی اجنبی شخص کے بارے میں پولیس کو آگاہ کریں ۔

علاوہ ازیں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پنجاب کے شہر اٹک اور حضرو میں خفیہ اداروں کی رپورٹ کی روشنی میں چھاپہ مار کر چھ افراد کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

ریجنل پولیس آفس کے ایک اہلکار عبدالرشید کے مطابق یہ کارروائی خفیہ اداروں کی رپورٹ کی روشنی میں کی گئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے بعد کالعدم تحریک طالبان نے شدت پسندی کی کارروائیوں کے لیے مختلف علاقوں میں خودکش حملہ آور بھیجے ہیں۔

پولیس کے مطابق گرفتار ہونے والے افراد سے دو خودکش جیکٹیں بھی برآمد ہوئی ہیں۔ اہلکار کے مطابق دورانِ تفتیش ان شدت پسندوں نے بتایا ہے کہ وہ کامرہ اور راولپنڈی میں اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے چاہتے تھے۔ ان افراد کو تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل بھی جنوبی پنجاب کے شہر مظفر گڑھ سے بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پانچ شدت پسندوں کو گرفتار کر کے اُن کے قبضے سے خودکش جیکٹیں اور آتش گیر مواد برآمد کیا تھا۔

اسی بارے میں