شمالی وزیرستان سے افغان طالبان کا مراسلہ

Image caption اگر نیا کمانڈر مقامی لوگوں سے نہ منتخب کیا گیا تو اس سے مقامی علما اور مدرسوں کے طالبان مایوس اور ناراض ہوں گے: مراسلے کا متن

پاکستان کے قبائلی علاقہ شمالی وزیرستان سے بی بی سی اردو کو ملنے والے ایک افغان طالب کے مراسلے سے محسوس ہوتا ہے کہ صدر مقام میران شاہ میں تحریک کے تنظیمی امور توقعات سے زیادہ مقامی حد تک نمٹائے جا رہے تھے۔

پاکستانی فوج کے توسط سے میران شاہ کے مرکزی بازار کی ایک مسجد کے تہہ خانے میں اترے تو پانچ چھ چھوٹے چھوٹے تاریک کمرے دکھائی دیے۔ فرشی قالین سے سجے ان کمروں میں سے بعض بظاہر رہائش کے لیے، تو بعض دفتر کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔

ایک کمرے کے کونے میں منشیوں والی فرشی میز پر کاغذوں کا ڈھیر دکھائی دیا تو تجسس ہوا۔ دیکھا تو ان میں سے ایک افغان طالبان کی پکتیکا صوبے کی شاخ کا سرکاری لیٹر پیڈ تھا۔

’د افغانستان اسلامی امارت امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد دے پکتیکا ولایت۔‘

یہ لیٹر پیڈ شاید خط و کتابت کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ ایک اور مکتوب بھی دیکھا جس میں 25 مقامی کمانڈروں نے، جن میں عبداللہ جہادی، عبدلطیف مجاہد، ملا نور محمد اور مولوی نور گل شامل ہیں، پکتیکا کے قریب سروبی ضلع میں کمانڈر ملا حسن کے تبادلے کی تجاویز دے رہے ہیں۔

سادہ صفحے پر 25 طالبان رہنماؤں کے دستخط سے جاری یہ طویل خط پکتیکا صوبے میں طالبان قیادت کو لکھا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اگر نیا کمانڈر مقامی لوگوں سے نہ منتخب کیا گیا تو اس سے مقامی علما اور مدرسوں کے طالبان مایوس اور ناراض ہوں گے۔

اس خط پر کوئی تاریخ نہیں لیکن اس سے ثابت ہوتا ہے کہ افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کافی نچلی یعنی ضلعی سطح تک تبدیلیوں اور تبادلوں کو شمالی وزیرستان سے دیکھ رہے تھے۔ اس حوالے سے قبائلی علاقوں میں رپورٹنگ اور تحقیق کرنے والے سینئیر صحافی زاہد حسین کہتے ہیں کہ ان خطوط کا ملنا کوئی زیادہ حیرت انگیز بات نہیں ہے۔

’یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں تھی۔ یہ حقانی نیٹ ورک کا خاصہ بڑا اڈا اور گڑھ تھا۔ لگتا یہ ہے کہ یہاں پکتیا، پکتیکا اور خوست جیسے علاقوں کا نیٹ ورک کافی متحرک تھا۔ اس سے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ماضی میں اس سلسلے میں جو بھی کہا جا رہا تھا یا لکھا جا رہا تھا وہ صحیح تھا۔‘

ماضی میں حکومت شمالی وزیرستان میں القاعدہ یا حقانی نیٹ ورک کی موجودگی سے انکار کرتی تھی لیکن اب وہ انکار اقرار میں تبدیل ہو چکا ہے۔

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ اب وہ کسی شدت پسند میں تمیز نہیں کرے گی کہ کون اچھا اور کون برا ہے۔

فوج کے تعلقاتِ عامہ کے شعبہ کے سربراہ میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کا کہنا تھا: ’زمین پر فوج کو واضح ہدایات ہیں کہ تمام مقامی و غیر ملکی دہشت گردوں کو ختم کرنا ہے۔ ان کی پناہ گاہیں بھی ختم کی جائیں گی۔ جو فوجی گراؤنڈ پر ہیں وہ تقسیم نہیں کر رہے جو بھی دہشت گرد ہوگا مارا جائے گا۔‘

میران شاہ کو جو ماضی میں تقریباً ہر چھوٹی بڑی شدت پسند تنظیم کا گڑھ بن چکا تھا اب پاکستان فوج کہتی ہے کہ ہمیشہ کے لیے شدت پسندوں سے پاک کر دیا گیا ہے۔

مصبرین کے نزدیک یہ پالیسی میں مرحلہ وار تبدیلی کا اشارہ ہے۔

اسی بارے میں