کیانی آپریشن کے وقت کا تعین خود کرنا چاہتے تھے: گیلانی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption موجودہ حکومت نے آپریشن کا فیصلہ کرنے میں تاخیر کی: یوسف رضا گیلانی

پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ ان کے دور میں فوج کے سربراہ جنرل اشفاق کیانی شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے وقت کا تعین خود کرنا چاہتے تھے۔

جمعے کو کراچی میں پیپلز میڈیا سیل میں بات کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ ’جب کل جماعتی کانفرنس یا پارلیمنٹ مینڈیٹ دیتی ہے تو ٹائم فریم نہیں دیتی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جب میں نے شمالی وزیرستان میں آپریشن کی بات کی تو جنرل اشفاق پرویز کیانی کا موقف تھا کہ یہ ہمارے اوپر چھوڑ دیا جائے کہ ہم کس وقت آپریشن کریں، اس لیے ہم نے یہ جنرل کیانی پر چھوڑ دیا کہ وہ فیصلہ کر لیں۔‘

خیال رہے کہ حال ہی میں پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سابق سربراہ میجر جنرل (ر) اطہر عباس نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ فوج نے تین برس قبل شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا تاہم اس وقت کے فوجی سربراہ جنرلاشفاق پرویز کیانی کی ہچکچاہٹ کے باعثیہ کارروائی نہ کی جا سکی۔

یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ کل جماعتی کانفرنس میں پیپلز پارٹی سمیت تمام سیاسی قوتوں نے موجودہ حکومت کو یہ مینڈیٹ دیا تھا کہ آپ چاہیں تو مذاکرات کریں اور اگر چاہیں تو آپریشن، لیکن حکومت نے فیصلہ کرنے میں تاخیر کی۔

انھوں نے کہا کہ ’فوجی آپریشن سے پہلے بھی قوم کو یا قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ میں بار بار یہ تجویز دیتا رہا کہ کل جماعتی کانفرنس بلائیں، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کریں یا قوم کو اعتماد میں لیں۔‘

مشرف کے لیے محفوظ راستے کا وعدہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ملک کا فوجی صدر اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر مستعفی نہیں ہو سکتا: یوسف رضا گیلانی

سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن سے اسٹیبشلمنٹ کے مذاکرات میں جنرل مشرف کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

ان کے مطابق آصف علی زرداری، میاں نواز شریف اور تمام سیاسی قوتوں نے جنرل مشرف کے مواخذے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد اسٹیبشملنٹ سے ان کے مذاکرات ہوئے۔

سابق وزیراعظم نے بتایا کہ ان مذاکرات میں یہ طے ہوا تھا کہ اگر جنرل مشرف مستعفی ہو جاتے ہیں تو انھیں باوقار اور محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔

یوسف رضا گیلانی کے مطابق اس سلسلے میں موجودہ حکومت کا جو کردار رہا وہ درست نہیں تھا اور ’جو کمنٹمنٹ ہو چکی تھی، انھیں اس قسم کا کام نہیں کرنا چاہیے تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ملک کا ایک فوجی صدر اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر مستعفی نہیں ہو سکتا، جب اسٹیبلشمنٹ نے یہ حمایت فراہم کی تو انھوں نے بھی آپ سے وعدے لیے ہوں گے کہ آپ آگے چل کر انھیں تنگ نہیں کریں گے۔‘

یوسف رضا گیلانی نے واضح کیا کہ وہ مشرف کے حق میں نہیں ہیں اور یہ بھی نہیں کہہ رہے کہ مشرف کی مدد کریں وہ صرف بتانا چاہ رہے ہیں کہ جو وعدے کیے گئے ہیں انھیں بھی پیش نظر رکھا جانا چاہیے۔

اسی بارے میں