کراچی: 306 روز میں 719 ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس ریکارڈ سے واضح ہوتا ہے کہ ٹارگٹڈ آپریشن کے باوجود بھتہ خوری کے واقعات میں کوئی تبدلی نہیں آئی

کراچی میں گزشتہ 306 روز میں 1685سے زائد افراد کو ہلاک ہوئے جن میں سے تقریباً 719 افراد کو ہدف بناکر قتل کیا گیا۔

کراچی پولیس کے ترجمان عتیق شیخ نے جمعہ کو بریفنگ میں میڈیا کو بتایا کہ پچھلے سال ستمبر یعنی ٹارگٹڈ آپریشن سے قبل تین سو روز میں 2432 ہلاکتیں ہوئیں تھیں جبکہ آپریشن کے دوران صرف 1685 افراد ہلاک ہوئے اس طرح آپریشن کے نتیجے میں نصف لوگوں کی زندگیاں بچ گئی ہیں۔

ٹارگٹڈ آپریشن، پولیس اور رینجرز کے گشت کے باوجود پولیس ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے شہر میں سٹریٹ کرائم میں کوئی واضح کمی کے بجائے موبائل اور موٹر سائیکل چھیننے کی وارداتوں میں اصافہ ہوا ہے۔

آپریشن سے قبل 306 روز میں 8740 موبائل چھینے گئے جبکہ دوران آپریشن یہ تعداد 12379 تک جا پہنچی ہے۔ اسی طرح موٹر سائیکل چھیننے کے 18756 واقعات پیش آئے جن کی تعداد پہلے 18751 تھی۔

پولیس ترجمان عتیق شیخ نے اعتراف کیا کہ پولیس موبائل چھیننے کی وارداتوں پر قابو نہیں پاسکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجرم موبائل چھیننے کے بعد گلیوں میں فرار ہوجاتے ہیں جس وجہ سے مشکلات ہوتی ہیں جبکہ پولیس گرفتاریوں اور انہیں سزا دلانے کی کوشش کر رہی ہے۔

وفاقی اور سندھ حکومتیں، پولیس اور رینجرز شہر میں بھتہ خوری پر قابو پانے کے دعوے کرتے رہے ہیں لیکن میڈیا سے شیئر کیے جانے والے اعداد و شمار میں صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق آپریشن سے پہلے بھتہ خوری کی 1258 شکایات تھیں جبکہ آپریشن کے 306 روز میں 1181 شکایات وصول ہوئی ہیں۔ ان اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ کوئی بڑی تبدلی نہیں آئی۔

پولیس ترجمان کے مطابق آپریشن سے قبل 306 روز میں 1831 افراد کو ہدف بناکر ہلاک کیا گیا۔ آپریشن کے بعد اسی عرصے میں 719 افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث 229 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

کراچی میں رواں سال چھ ماہ کے دوران پولیس پر حملوں میں 91 اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں ان ہلاکتوں کی تعداد 107 تھی۔

پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ ملزمان کا گھیرا تنگ ہونے کے بعد وہ پولیس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

اسی بارے میں