کمسن بچی کے قتل کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس افسر کے مطابق ملتان میں ان کی ڈیڑھ سالہ پوسٹنگ کے دوران یہ اس قسم کا پہلا واقعہ ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر ملتان میں عدالت نے کمسن بچی کے ریپ اور قتل کرنے کے ملزم سمیع اللہ کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

پولیس کے مطابق بچی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ لاہور لیبارٹری بھجوا دی گئی ہے جبکہ ملزم کا ڈی این اے ٹیسٹ بھی کروایا جا رہا ہے۔

ملتان کے مظفرآباد تھانے کے ڈی ایس پی میاں تنویر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مجسٹریٹ نذیر احمد نے چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر ملزم کو ہمارے حوالے کیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور امید ہے کہ دو ہفتے میں رپورٹ مکمل کر کے چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا تاکہ جلد از جلد مقدمے کی سماعت شروع ہو سکے۔‘

دو دن قبل ملتان کی ڈیفینس کالونی میں مذکورہ بچی دیگر بچوں کے ہمراہ اپنے مکان سے باہر کھیلنے نکلی تو پڑوس میں زیرِتعمیر مکان کا ایک چوکیدار اسے بہلا پھسلا کر مکان کے اندر لے گیا تھا جہاں اسے مبینہ طور پر ریپ کیا گیا۔

جس مکان میں بچی کو لے جایا گیا وہاں موجود جنگلی کبوتروں کی وجہ سے اکثر مقامی بچے وہاں کھیلنے جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان میں جنسی زیادتی کے واقعات اکثر سامنے آتے رہتے ہیں

بچی کے واپس نہ آنے پر چند گھنٹے بعد جب اس کے اہل خانہ نے بچی کی تلاش شروع کی تو اس کی لاش زیرِ تعمیر مکان سے ملی جس کے بعد اہلِ محلہ نے شک پر چوکیدار سمیع اللہ سے پوچھ گچھ کی تو اس نے بچی کو ریپ کرنے اور پھر اسے قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔

ڈی ایس پی میاں تنویر کے مطابق ’جب پولیس جائے وقوع پر ملزم کو گرفتار کرنے پہنچی تو اس نے اقبال جرم کیا اور بتایا کہ ریپ کے دوران ہی بچی ہلاک ہوگئی۔‘

ان کے مطابق ’متاثرہ خاندان مکمل تعاون کر رہا ہے اور وہ پولیس کی کارروائی سے مطمئن ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ان کی ملتان میں ڈیڑھ سالہ پوسٹنگ کے دوران یہ اس قسم کا پہلا واقعہ ہے تاہم ایک غیر سرکاری تنظیم کے اعدادوشمار کے مطابق جنوبی پنچاب میں صرف اس برس اب تک کمر عمر بچیوں کے ریپ کے دو سو سے زیادہ واقعات رجسٹر ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں