پاکستانی آم کی برآمد میں حائل رکاؤٹیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بڑے باغوں والے سیاسی خاندان ہی صرف اپنے آم برآمد کر پاتے ہیں اور چھوٹے باغوں کے مالکان کے پاس ایسے وسائل نہیں ہیں: ماہرین

پاکستانی آم کی مقبولیت سے تو بہت سے لوگ واقف ہیں مگر شاید کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ پاکستان آم کی پیداوار میں پانچویں اور برآمد میں آٹھویں نمبر پر ہے۔

دنیا بھر میں لوگ پاکستانی آم کے دلدادہ ہیں لیکن کیا حکومت اس صنعت کی صحیح مدد یا رہنمائی کر رہی ہے؟

حال ہی میں جب ہم ملتان گئے تو معلوم ہوا کہ اس علاقے میں آم کے باغات تو بے شمار ہیں مگر ان میں سے کچھ ہی ہیں جو اس پھل کو برآمد کر سکتے ہیں۔

معاملہ کچھ اس طرح ہے کہ حال ہی میں برطانیہ اور یورپی یونین کو بھیجے جانے والے آم کی کچھ ڈبوں سے فروٹ فلائی (مکھی کی ایک قسم) نکل آئی۔

اس سے پہلے کہ پاکستانی آم پر بھارت کی طرح پابندی لگ جاتی حکومتِ پاکستان نے آموں کی برآمد پر پابندی لگا دی۔

حکومت کہتی ہے کہ جب تک آموں کا ہاٹ واٹر ٹریٹمینٹ (آموں کی گرم پانی کی مدد سے ایک مخصوص انداز میں صفائی کا عمل) نہ ہو جائے، ان کی برآمد پر پابندی ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ بڑے بڑے باغوں والے سیاسی خاندان ہی صرف اپنے آم برآمد کر پاتے ہیں اور چھوٹے باغوں کے مالکان کے پاس ایسے وسائل نہیں ہیں۔

پاکستان میں ہاٹ واٹر ٹریٹمینٹ کرنے کے ملک بھر میں صرف دو کارخانے ہیں۔

یہ کارخانے ہر روز صرف 500 ٹن آموں پر ہی صفائی کا عمل کر سکتے ہیں جو کہ اس صنعت کی برآمد کرنے کی صلاحیت سے کم از کم نصف ہے۔

ظاہر ہے کہ دو کارخانوں میں سے تو آموں کی محدود مقداد ہی گزر سکتی ہے اور یہاں بھی سیاست کا دخل ہوتا ہے۔ اثر و رسوخ والی کمپنیاں ہی اپنے آموں کی ان کارخانوں سے صفائی کروا سکتی ہیں۔

ہم ملتان پہنچے تو ہم نے ایک تربیتی کورس دیکھا جہاں کاشت کاروں کو بہتر معیار کے آموں کی پیداوار کے بارے میں بتایا جا رہا تھا۔

یہ کورس پاکستان ہارٹی کلچر ادارے اور برآمد کرنے والی ایک نجی کمپنی کی مشترکہ کوشش ہے۔

اس منصوبے کے رہنما سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ کام نہیں کر رہی اور اسی لیے اس صنعت سے ممکنہ آمدنی سے محروم ہے۔

اسی بارے میں