لاہور، راولپنڈی کی نالیوں میں پولیو وائرس

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حالیہ برس کے دوران دنیا بھر میں پولیو کےسب سے زیادہ کیسز پاکستان سے رپورٹ ہوئے ہیں

حالیہ برس کے دوران پاکستان کے صوبہ پنجاب سے لیے گئے پولیو کے ماحولیاتی نمونوں میں سے 11 میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے دو راولپنڈی اور نو لاہور سے ہیں۔

لاہور سے پولیو پر نظر رکھنے کے لیے ہر ماہ مختلف علاقوں سے سیوریج کے چھ نمونے لیے جاتے ہیں۔ جون میں لیے گئے نمونوں میں سےدو میں پولیو کا وائرس پایا گیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے لاہور کو پولیو وائرس کے حوالے سے خطرناک ضلع قرار دیا ہے اور حکومت کو سفارش کی ہے کہ وہ پولیو وائرس کے پھیلاؤ کی نگرانی اور روک تھام کے لیے انتظامات کرے۔

جون میں آؤٹ فال روڈ کے قریب ساندہ اور کریم پارک علاقوں کے سیوریج میں پولیو کے وائرس تشخیص ہوئی۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق لاہور پولیو کے پھیلاؤ کے خدشے کے حوالے سے ہائی رسک علاقہ ہے جہاں بچوں میں وائرس پھیلنے کا خدشہ نسبتا زیادہ ہے۔

پنجاب میں ویکسین کے ذمے دار ادارے ای پی آئی پروگرام کے ڈائریکٹر منیر احمد کہتے ہیں کہ حکومت اس صورتحال کے پیش نظر شہر میں پولیو مہمات کا آغاز کررہی ہے۔ جس کا پہلا مرحلہ سولہ جولائی کو ایک روزہ مہم کے ذریعے شروع ہوگا۔

’اس مہم کے دوران جس میں شہر کی تمام یونین کونسلوں میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے تاہم جن علاقوں سے پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے ان علاقوں پر خاص توجہ دی جائے گی۔

ان کے مطابق ’ستمبر تک وقفے وقفے سے لاہور ہی نہیں بلکہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں پولیو کی ویکیسن کی چھ مہمات چلائی جائیں گی۔‘

تاہم منیر احمد کا کہنا تھا کہ ’لاہور میں ہزاروں لوگوں کی دوسرے علاقوں سے آمد ورفت کے باعث یہ علاقہ پولیو کے حوالے سے ہمیشہ ہی حساس رہا ہے اور حکومت اس خدشے کے پیش نظر وقتاً فوقتاً پولیو کی ویکسین کی مہم چلاتی رہی ہے۔‘

پنجاب میں عموعی طور پر لوگ ویکسین پلانے کے لیے تعاون کرتے ہیں اور پنجاب کے ڈائریکٹر ای پی آئی کے مطابق پنجاب میں ویکسین پلانے سے انکار کا تناسب اعشاریہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔

پنجاب کے مختلف اضلاع میں آئی ڈی پیز کی آمد کے باعث ان علاقوں میں بھی پولیو ویکسین کی تین مہمات چلانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ترجمان کے مطابق لاہور کے علاوہ کوئٹہ اور حیدرآباد سے لیے گئے ماحولیاتی نمونوں سے بھی پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔

پچھلے کچھ عرصے سے ان شہروں میں یہ مسئلہ سامنے آرہا ہے جو غیر اہم تو نہیں تاہم یہ صورتحال کراچی اور پشاور کی طرح گھمبیر نہیں ہے۔ بہتر مانیٹرنگ اور بروقت انتظامات سے پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جاسکتا ہے۔

حالیہ برس کے دوران دنیا بھر میں پولیو کےسب سے زیادہ کیسز پاکستان سے رپورٹ ہوئے ہیں۔ پولیو کے باعث حال ہی میں عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کچھ سفری پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔

اسی بارے میں