باجوڑ چوکی پر حملے میں تین فوجی ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شدت پسندوں نے افغانستان کےعلاقے سے پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملہ کیا: اہلکار

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحدی علاقے میں پاکستانی سکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملے میں ایک فوجی افسر سمیت تین اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ باجوڑ ایجنسی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے غاخی پاس کے قریب پیش آیا۔

انھوں نے کہا کہ سرحد پار افغانستان کے علاقے سے درجنوں مسلح شدت پسندوں نے رات کی تاریکی میں ماموند کے علاقے میں قائم پاکستانی سکیورٹی چیک پوسٹوں پر بھاری اور خود کار ہتھیاروں سے حملہ کر دیا۔ انھوں نے حملے میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں فوج کے ایک کیپٹن بھی شامل ہیں۔

ادھر فوجی ذرائع نے بھی حملے میں تین اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

سرکاری اہلکار کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے بھی جوابی کارروائی کی گئی اور اس دوران شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایاگیا۔ تاہم ہلاکتوں کے حوالے سے مصدقہ اطلاعات نہیں ملی ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس حملے کے بعد علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ سرحد پار افغان علاقوں سے پاکستانی مقامات پر حملوں کا سلسلہ گزشتہ تقریباً دو سالوں سے جاری ہے۔ پچھلے ماہ یعنی جون میں افغان علاقے سے پاکستانی سرحد چوکیوں پر دو تین مرتبہ شدت پسندوں کی جانب سے حملے کئے گئے تھے جس میں متعدد اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

پاکستان نے ان حملوں پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسلام آباد میں تعینات افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرلیا تھا۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ افغانستان کی جانب سے بھی پاکستان فوج پر افغان علاقوں پر گولہ باری کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں