سوات کا بے نام کالج

Image caption کالج کے مرکزی بورڈ سے ملالہ کا نام مٹا دیا گیا ہے اور تب سے آج تک یہ کالج بے نام ہے

سوات میں ایک گرلز کالج ایسا بھی ہے جو تقریباً 18 ماہ گزرنے کے بعد بھی بے نام ہے۔ گرلز ڈگری کالج سیدو شریف کو دسمبر 2012 میں ملالہ یوسفزئی کے نام سے منسوب کرنے پر کالج کے طالبات نے تدریسی عمل کا بائیکاٹ کرتے ہوئے احتجاج کیا تھا۔

’طالبان دکھائی نہیں دیتے، محسوس کیے جا سکتے ہیں‘

احتجاج کے دوران مشتعل طالبات نے نہ صرف پتھراؤ کیا تھا بلکہ کالج میں لگے ملالہ یوسف زئی کے پوسٹر بھی پھاڑ دئیے تھے۔ طالبات کا کہنا ہے کہ ملالہ یوسف زئی نے اس کالج سے نہ ہی تعلیم حاصل کی اور نہ ہی کالج کے لیے کوئی قابل ذکر خدمات سر انجام دی ہے اس لیے کالج کا ملالہ سے منسوب کرنا زیادتی ہے۔

اس واقعے کے بعد کالج کے مرکزی بورڈ سے ملالہ کا نام مٹا دیا گیا ہے اور تب سے آج تک یہ کالج بے نام ہے۔

خیال رہے کہ سولہ اکتوبر 2012 کو اس وقت کے صوبائی وزیر اعلی امیر حیدر خان ہوتی نے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کا نام ملالہ کے نام پر رکھنے کی منظوری دی تھی تاہم کالج کے طالبات نام تبدیل کرنے کے سخت مخالف ہیں بلکہ ان کے والدین بھی اس حکومتی اقدام کے مخالفت کررہے ہیں۔

اس کالج میں پڑھنے والی ایک طالبہ نے بتایا کہ ’ملالہ یوسفزئی تو اپنے خاندان کے ہمراہ ایک محفوظ ملک منتقل ہوگئی ہیں لیکن ہم تو ایک ایسے علاقے میں رہتے ہیں جو شورش سے متاثرہ ہے اور جہاں آج بھی دہشت گردی کے خطرات منڈلاتے ہیں اور کالج کا نام ملالہ کے نام سے منسوب کرنے پر ہم دہشت گردوں کےنشانے پر آسکتے ہیں۔‘

کالج انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ کالج کا نام تبدیل کرنے کے حوالے سے کالج انتظامیہ اور طالبات کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ اگر حکومت ملالہ کے نام سے کوئی کالج یا تعلیمی ادارہ بنانا چاہتی ہے تو اس کے لیے وہ نئی عمارت بھی تعمیر کروا سکتی ہے لیکن پرانے نام کا بورڈ ہٹا کر ملالہ کے نام کا بورڈ لگانے سے سوات کے لوگ خوش نہیں ہوں گے۔

ایک اندزے کے مطابق ملالہ یوسف زئی کی عالمی سرپرستی اور غیر معمولی توجہ کے بعد نہ صرف پاکستان کے دوسرے حصوں میں بلکہ ملالہ کے آبائی ضلع میں بھی ان کی ہمدردی میں کمی واقع ہوئی ہے اور اکثریت لوگ اس کو محض ڈرامہ ہی قرار دیتے ہیں۔

اسی بارے میں