ماڈل ٹاؤن : گلو بٹ کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس کی مبینہ فائرنگ اور تشدد سے عوامی تحرک کے کم از کم دس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے

انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ماڈل ٹاؤن لاہور میں پولیس آپریشن کےدوران پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کی ہلاکت کے مقدمے میں گلو بٹ اور چار پولیس اہلکاروں کو پانچ روزہ جسمانی پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیر کو تھانہ سبزہ زار کے ایس ا یچ او، ایک سب انسپکٹر اور ایلیٹ فورس کے دو کانسٹیبلوں کو ہتھکڑیوں میں پیش کیا گیا۔

تفتیشی افسر نے عدالت سے کہا کہ ملزمان سے یہ تفتیش کرنی ہے کہ انھوں نے کس کے حکم پر فائرنگ کی اس لیے ان کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔

عدالت نے تفتیشی افسر کی درخواست منظور کرتے ہوئے ملزمان کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم ان پولیس افسروں سے ماڈل ٹاؤن میں منہاج القرآن سیکرٹریٹ پر حملے کی تفتیش کر رہی ہے۔

اس حملے میں پولیس کی مبینہ فائرنگ اور تشدد سے کم از کم دس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

پاکستان عوامی تحریک نے پولیس تفتیش کا بائیکاٹ کر رکھا ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ پہلے وزیراعلیٰ پنجاب کو ان کے عہدے سے ہٹایا جائے۔

عوامی تحریک کے صدر رحیق عباسی نے کہا کہ جب تک شہباز شریف اپنے عہدے پر موجود ہیں منصفانہ تفتیش یا انکوائری نہیں ہوسکتی۔

پاکستان عوامی تحریک نے ہائی کورٹ کے جوڈیشل ٹریبونل کا بھی بائیکاٹ کررکھا ہے۔

ہائی کورٹ کے ٹریبونل نے پیر کو مزید شہادتیں قلمبند کیں۔ سپیشل برانچ، انٹیلجنس بیورو اور آئی ایس آئی کے افسروں نے سی ڈیز پیش کیں جو ریکارڈ کا حصہ بنا لی گئیں۔

آئی ایس آئی کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے ان 18 ٹیلی فون نمبرز کی فہرست پیش کی جن پر پولیس افسران کی پنجاب کے حکام سے بات ہوتی رہی۔

ٹریبونل نے متعلقہ موبائل فون کمپنیوں سے ان نمبروں کا ڈیٹا طلب کیا ہے۔

ادھر انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پولیس کے ساتھی گلو بٹ کو بھی پیش کیا گیا۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ گلو بٹ سے وہ ڈنڈا تو برآمد ہوگیا ہے جس سے وہ 17 جون کو لوگوں کی گاڑیاں توڑتے رہے البتہ پستول برآمد ہونا باقی ہیں۔

پولیس نے گلو بٹ کے جسمانی ریمانڈ میں پانچ روز کی توسیع کردی ہے۔

اسی بارے میں