پرویز مشرف سیاسی تنازعات کی وجہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان کی عدالتوں میں پرویز مشرف کے خلاف مختلف مقدمات زیرِ سماعت ہیں

پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی حکومت ختم ہوئے تقریباً چھ برس ہونے کو ہیں لیکن اب بھی وہ کسی نہ کسی حوالے سے شہ سرخیوں میں رہتے ہیں۔

پرویز مشرف کے حوالے سے تازہ ترین قضیہ سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کے اس بیان سے اٹھ کھڑا ہوا ہے جس میں انھوں نے پرویز مشرف کو ’محفوظ راستہ‘ دینے کے لیے دوسری سیاسی جماعتوں، خاص کر ن لیگ کی مشاورت کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ سے ہونے والی ’ڈیل‘ کا ذکر کیا۔

سابق وزیرِ اعظم نے چند روز پہلے ایک بیان میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ سنہ 2008 میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سیاسی جماعتوں کے مذاکرات ہوئے تھے جس کے نتیجے میں مشرف کی صدارت سے علیحدگی اور ان کی بیرون ملک روانگی ممکن ہو سکی۔

یوسف رضاگیلانی نے سابق صدر مشرف پر چلائے جانے والے غداری کے مقدمے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور مسلم لیگ ن کو مشورہ دیا کہ وہ اس بارے میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ طے کیے گئے معاہدے کو ذہن میں رکھے۔

اس بیان پر بڑا ردعمل دیکھنے میں آیا۔ خود پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے مختلف بیانات دیے۔ اس معاملے پر پیپلز پارٹی کا دوٹوک موقف تو سامنے نہیں آیا تاہم مختلف رہنماؤں کے متضاد بیانات سے یہ تاثر ضرور ابھرا ہے کہ پارٹی میں اس معاملے پر رائے منقسم ہے۔

پیپلز پارٹی کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے صحافی لیاقت انصاری اس سے اتفاق نہیں رکھتے: ’یوسف رضا گیلانی، فرحت اللہ بابر، قمر زمان کائرہ اور مخدوم امین فہیم، بات تو سب ایک ہی کر رہے ہیں لیکن سب کا انداز بیان مختلف ہے۔‘

لیاقت انصاری کے مطابق شاید پیپلز پارٹی کے اپنے کئی رہنماؤں ان کی اتحادی جماعتوں اور مسلم لیگ ن میں اکثر لوگوں کو اصل اعتراض ’ڈیل‘ کے لفظ پر ہے: ’پاکستان کی سیاست میں ’’ڈیل‘‘ ایک متنازع لفظ بن چکا ہے اور اگر اس کے بجائے انڈرسٹینڈنگ کا لفظ استعمال کر لیا جاتا تو شاید اس معاملہ پر اتنی لے دے نہ ہوتی۔‘

مسلم لیگ ن کے بارے میں ایک تاثر یہ بھی ہے کہ وہ تو شریف برادران کو ’محفوظ راستہ‘ دینے کے اس تحریری معاہدے تک کی تردید کرتی رہی ہے جو سعودی خفیہ ادارے کے سربراہ نے پاکستان میں ایک پریس کانفرنس کے دروان میڈیا کے سامنے پیش کیا تھا، تو ان سے مشرف کو محفوظ راستہ دینے کی ’ڈیل‘ میں شریک ہونے کا اعتراف کرنے کی توقع رکھنا بےمعنی ہے۔

تاہم سنیئیر صحافی اور تجزیہ نگار سلمان غنی کا خیال ہے کہ سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کے اس بیان کی ٹائمنگ بہت اہم ہے اور وہ اپنے اس بیان کے ذریعے پاکستان میں کچھ قوتوں کو کوئی پیغام دینا چاہتے ہیں۔

سلمان غنی کہتے ہیں: ’یوسف رضا گیلانی کو اس وقت کئی مسائل کا سامنا ہے۔ نیب میں ان پر مقدمات ہیں، ان کا بیٹا بھی ابھی تک بازیاب نہیں ہوا۔ یہ بیان دے کر انھوں نے حکومت کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی ہے۔‘

سلمان غنی کے تجزیے کے مطابق یہ تمام قضیہ مشرف کے غداری کے مقدمے کے باعث کھڑا کیا گیا ہے، لیکن ان کا خیال ہے کہ پیپلز پارٹی کی یہ سیاسی پہچان ہے کہ وہ کبھی خود کو آمروں کی سیاست سے منسلک نہیں کرتی اور وہ نہ ہی اب ایسا کرے گی۔

پرویز مشرف کے خلاف غداری کےمقدمے پر پوری قوم میں دو آرا پائی جاتی ہے۔ تاہم مبصرین کا خیال ہے کہ جس طرح عدلیہ کی بحالی اور پھر سابق صدر کے خلاف غداری کے مقدمے سے ملکی تاریخ میں نئی مثال پیدا ہوئی، اسی طرح غداری کیس کے فیصلے سے بھی ایک نئی نظیر قائم ہوگی۔

اسی بارے میں