عمائدین اور سکیورٹی حکام کا جرگہ، باجوڑ ٹارگٹڈ آپریشن ملتوی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption بچوں اور خواتین سمیت لوگوں کی بڑی تعداد گاڑیوں کی کمی کی وجہ سے پیدل نقل مکانی کر رہی ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں ماموند قبائل اور سیکورٹی حکام کے درمیان ہونے والےگرینڈ جرگے کے بعد سیکورٹی فورسز نے علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف ہونے والے سرچ اور ٹارگٹڈ آپریشن ملتوی کردیا ہے۔

پولٹیکل انتظامیہ کے ایک اہلکار گل رحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کو ماموند قبائل کے ایک گرینڈ جرگے نے پولیٹکل ایجنٹ جبار شاہ اور بریگیڈیر حیدر کے ساتھ ملاقات کی جو کامیاب ہوئی۔

ان کے مطابق جرگے میں شریک عمائدین علاقے نے سکیورٹی فورسز اور پولٹیکل انتظامیہ کو باور کرایا ہے کہ قبائلی جرگہ فورسز کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا اور فورسز کے ساتھ مل کر شدت پسندوں کے خلاف لشکر کشی کرےگی۔

جرگے میں شریک ایک مقامی شخص نے بتایا کہ جرگے میں علاقے کے علما سمیت عمائدین کی بڑی تعداد شامل تھی جس نے پولٹیکل انتظامیہ اور فوجی حکام کو یقین دلایا ہے کہ وہ اپنے علاقے میں کسی دہشت گرد کو پناہ نہیں دیں گے۔

قبائلی جرگے نے یہ ضمانت دی ہے کہ اگر کسی قبائلی نے دہشت گرد کو پناہ دی تو ان کے گھروں کو جلانے کے ساتھ ساتھ انہیں علاقہ بدر کیا جائے گا اور علاقے کے لوگ فوج کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے۔

قبائلی جرگے کے کامیاب مذاکرات کے بعد پولٹیکل انتظامیہ اور سیکورٹی فورسز کے اعلی حکام نے نقل مکانی کرنے والے لوگوں کو واپس اپنے گھروں کو انے کی اجازت دے دی ہے۔

تحصیل ماموند کے تین بڑے دیہات نختر، غاخے اور کٹکو کے رہائشیوں کو سیکورٹی فورسز کی طرف سے منگل کی شام چار بجے تک علاقے خالی کرنے کا حکم دیا گیا تھا جس کے بعد ان دیہات سے تقریبا 70 فیصد لوگ نقل مکانی کر کے محفوظ مقامات پر منتقل ہوچکے تھے۔

تاہم کامیاب مذاکرات کے بعد فوج کے اعلی حکام نے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کو علاقے میں واپس آنے کی اجازت دی ہیں تاہم نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کے واپسی کا سلسلہ تا حال شروع نہیں ہوا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ اب تک چھ سو سے زائد خاندان علاقہ چھوڑ چکے ہیں۔

ادھر پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان نے افغانستان کے صوبے کنڑ اور نورستان میں پناہ گاہیں بنا رکھی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption باجوڑ ایجنسی کے علاقے تحصیل ماموند کے تین گاؤں نختر، غاخے اور کٹکو کے رہائشیوں کو سیکورٹی فورسز کی جانب سے پیر کی شام چھ بجے تک علاقے خالی کرنے کا حکم دیا گیا تھا جس کے بعد وہاں سے لوگوں نے نقل مکانی شروع کی تھی جو تا حال جاری ہے

تحریک طالبان کے سربراہ ملا فضل کے خلاف افغانستان میں کارروائی کے لیے اقوام متحدہ یا امریکہ سے اجازت کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا: ’ کہ سفارتی سطح پر ایسی آپشنز موجود ہوتی ہیں لیکن اس کا فیصلہ حکومت کو کرنا ہے۔ ‘

باجوڑ کنٹرول روم کے ایک اہلکار گل رحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ مذکورہ علاقے پاک افغان سرحد پر واقع ہیں اور دو دن قبل غاخی پاس کے علاقے میں سکیورٹی فورسز پر ہونے حملے میں تین اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

خیال رہے کہ دو دن قبل افغانستان کی سرحد کی جانب سے آنے والے سے درجنوں مسلح شدت پسندوں نے رات کی تاریکی میں ماموند کے علاقے میں قائم پاکستانی سکیورٹی چیک پوسٹوں پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا جس میں تین اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے تھے۔ ہلاک ہونے والے اہلکاروں میں ایک فوجی کیپٹن بھی شامل تھا۔

باجوڑ ایجنسی میں سرحد پار افغانستان کے صوبے کنڑ سے ہونے والا یہ پہلا حملہ نہیں ہے۔ اس سے قبل باجوڑ سمیت دیر اور چترال میں بھی افغانستان کے علاقوں سے متعدد حملے ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ سرحد پار افغانی علاقوں سے پاکستانی سرزمین پر حملوں کا سلسلہ گذشتہ دو سالوں سے جاری ہے۔

باجوڑ ایجسنی فاٹا کے انتہائی شمال میں واقع ہے اور رقبے کے اعتبار سے سب سے چھوٹی ایجنسی ہے۔ اس کا کل رقبہ 1290 مربع کلومیٹر ہے۔ سنہ 1988 کی مردم شماری کے مطابق باجوڑ ایجنسی کی کل آبادی 5,95,227 افراد پر مشتمل تھی۔

باجوڑ ایجنسی مہمند، مالاکنڈ اور دیر سے ملحقہ ہے، جبکہ ہمسایہ ملک افغانستان کے صوبے کنڑ اور باجوڑ ایجنسی کی 52 مربع کلومیٹر سرحد مشترک ہے۔

بعض اطلات کے مطابق کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ مبینہ طور پر افغانستان کے صوبے کنڑ میں روپوش ہیں تاہم طالبان ذرائع اس کی تصدیق نہیں کرتے۔

دوسری جانب پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے 15 جون کو شمالی وزیرستان میں شروع ہونے والی فوجی کارروائی کے بارے میں یہ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ اس کے دوران اب تک 400 سے زائد شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم عسکری حکام نے تصدیق کی ہے کہ متعدد شدت پسند علاقے سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

اسی بارے میں