’آئینی راستہ مڈٹرم الیکشن ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اب بات چار حلقوں سے آگے نکل چکی ہے: عمران خان

پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے 14 اگست کے موقع پر بلوایا گیا ’آزادی مارچ‘ مؤخر کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزادی پریڈ صبح ہوگی جبکہ ان کا مارچ شام کو ہو گا اس لیے فوج سے کوئی تصادم نہیں ہوگا۔

منگل کو پریس کانفرنس سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ آزادی مارچ 14 اگست کی شام کو اسلام آباد پہنچےگا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے حکومت فوجی جوانوں کی زندگی خطرے میں ڈال رہی ہے۔ ’حکومت فوج کو پریڈ کے لیے کاکول سے بلوا کر اپنی ذات اور کرسی بچانے کے لیے خطرے میں ڈال رہی ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’عوام کے سامنے الیکشن میں دھاندلی کے ثبوت پیش کریں گے، اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ حکومت نے دھاندلی کی ہے تو اس کا آئینی راستہ مڈٹرم الیکشن ہے۔‘

حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے مزاحمت کی صورت میں تحریکِ انصاف کا کیا لائحہ عمل ہوگا اور لوگوں کو اکھٹا کرنے کا اصل مقصد کیا ہے ؟ کیا وہ خود مستعفی ہوں گے یا استعفے مانگیں گے؟

ان سوالوں کے جواب تو عمران خان نے نہیں دیے، تاہم انھوں نے اتنا ضرور کہا کہ 14 اگست کو عوام ملک کو آزاد کرانے آئیں گے۔

پریس کانفرنس میں صحافیوں نے عمران خان سے پوچھا کہ اگر حکومت کا تختہ الٹ گیا تو کیا عمران خان اس کا سہرا اپنے سر لیں گے، تو تحریکِ انصاف کے سربراہ نے اس کا جواب دینے سے گریز کیا۔

عمران خان نے الزام عائد کیا کہ اسلام آباد کی کامسیٹس یونیورسٹی کے تہہ خانے میں نادرا کی ٹیم بیٹھ کر انتخابی نتائج میں تبدیلی کر رہی ہے۔

تحریکِ انصاف کے سربراہ نے بجلی، مہنگائی اور دیگر عوامی مسائل کے حل میں حکومت کو ناکام قرار دیا۔

اپنی گفتگو میں عمران خان نے متعدد بار سابق صدر آصف علی زرداری کا حوالہ دیا اور ان کی تعریف کی۔

ان کا کہنا تھا کہ آصف علی زرداری کے دور میں بجلی کی صورت حال اس سے بہتر تھی۔ اس کے علاوہ انھوں نے سابق صدر کی جانب سے عمران خان کے انتخابی نتائج کے حوالے سے جانچ پڑتال کے مطالبے کو درست قرار دیا ہے۔

عمران خان نے قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ پر تنقید کی اور کہا ’وہ نہ تیتر ہیں اور نہ ہی بٹیر، اب مُک مُکا کی سیاست ختم ہونی چاہیے۔‘ انھوں نے کہا کہ خورشید شاہ کو فیصلہ کر لینا چاہیے کہ وہ حکومت میں ہیں یا اپوزیشن میں۔

تحریکِ انصاف کے سربراہ نے ہمسایہ ملک افغانستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں صدارتی انتخابات کے بعد ایک ایک ووٹ کی گنتی ہو رہی ہے لیکن حکومت پاکستان کے صرف چار حلقوں میں ووٹوں کی گنتی کرنے سے گریزاں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب بات چار حلقوں سے آگے نکل چکی ہے، لہذا افغانستان کی طرح تمام الیکشن کا آڈٹ کیا جائے۔

خیال رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے گذشتہ ماہ یہ اعلان کیا گیا تھا کہ وہ 14 اگست کو پارلیمان کے سامنے ڈی چوک میں احتجاج کریں گے تاہم وفاقی حکومت نے اسی مقام پر جشنِ آزادی کی تقریبات منانے کا اعلان کر رکھا ہے۔

اسی بارے میں