حکومت احتجاجی سیاست کی اجازت نہیں دے گی: شریف

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’قوم نے ہمیں مینڈیٹ دیا ہے ہم اسے پورا کریں گے، آپ کو مینڈیٹ ملتا تو آپ کرتے۔‘

پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا کہنا ہے کہ حکومت سنہ 80 اور 90 کی سیاست کی اجازت نہیں دے سکتی۔

ٹیکس نادہندگان کے لیے سہولیات اور آنر کارڈ کے اجراء کے لیے منعقد کی جانے والی ایک تقریب سے خطاب میں وزیراعظم نواز شریف نے کسی سیاسی جماعت کا نام لیے بغیر کہا کہ پوری قوم نے مسلم لیگ نون کو انھیں مشکلات سے باہر نکالنے کا مینڈیٹ دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’قوم نے ہمیں مینڈیٹ دیا ہے ہم اسے پورا کریں گے، آپ کو مینڈیٹ ملتا تو آپ کرتے۔‘

ادھر پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے 14 اگست کے موقع پر بلوایا گیا ’آزادی مارچ‘ موخر کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزادی پریڈ صبح ہو گی جبکہ ان کا مارچ شام کو ہو گا اس لیے فوج سے کوئی تصادم نہیں ہو گا۔

منگل کو پریس کانفرنس سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ آزادی مارچ 14 اگست کی شام کو اسلام آباد پہنچے گا۔

یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے اس سال 14 اگست کو جشن آزادی کی مرکزی تقریب دارالحکومت اسلام آباد کے ڈی چوک میں منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی وزیر ِاطلاعات پرویز رشید نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ حکومت نے ماضی کی اس روایت کو دوبارہ بحال کیا ہے اور اس سلسلے میں (جشنِ آزادی) کی ایک باوقار تقریب کا انعقاد کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے ماضی میں کسی حکومت کا تختہ النٹے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ انھوں نے عدلیہ کی بحالی کے لیے مسلم لیگ ن کے لانگ مارچ کا حوالہ دیا اور کہا کہ انھوں نے گوجرانوالہ تک مارچ کیا اسلام آباد تک نہیں آئے۔ ’جج بحال ہوئے اسلام آباد آنے کی نوبت نہیں آئی۔‘

نواز شریف نے کہا کہ یہ 80 اور 90 کی دہائی کی سیاست کا وقت نہیں۔ ’یہ آپ کو زیب نہیں دیتا اور نہ حکومت اس کی اجازت دے سکتی ہے۔‘

وزیراعظم نے طاہرالقادری اور عمران خان کو مخاطب کیے بغیر کہا کہ وہ لوگ ان تمام باتوں کو مدنظر رکھ کر انقلاب اور کسی لانگ مارچ کی بات کریں۔

اپنی تقریر میں وزیراعظم میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی یقین دہانی کے ساتھ ساتھ متعدد منصوبوں کا ذکر بھی کیا تاہم اس تقریر میں وہ نہایت سنجیدہ دکھائی دیے۔

ان کا کہنا تھا کہ منفی سیاست کی اس ملک میں کوئی گنجائش نہیں۔

اسی بارے میں