پیمرا چیئرمین کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن معطل

Image caption عدالت نے قائم مقام چیئرمین کی طرف سے ہونے والے فیصلوں کو معطل نہیں کیا: پیمرا کے وکیل رانا شمیم

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگیولیٹری اتھارٹی یعنی پیمرا کے قائم مقام چیئرمین پرویز راٹھور کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن معطل کر دیا ہے۔

اس کے علاوہ ان کی پیمرا کی رکنیت سے متعلق نوٹیفیکیشن بھی معطل کر دیا گیا ہے۔

پیمرا کے اعزازی ارکان اسرار عباسی اور فریحہ افتخار کی جانب سے دائر ہونے والی درخواستوں پر فیصلہ سُناتے ہوئے جسٹس نورالحق قریشی نے کہا کہ پرویز راٹھور کی بطور چیئرمین پیمرا تعیناتی قواعد و ضوابط سے ہٹ کر کی گئی تھی اور اُن کی تعیناتی اُس وقت عمل میں لائی گئی جب پرویز راٹھور کے خلاف درخواست ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت تھی۔

پیمرا کے وکیل رانا شمیم نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہی انٹرا کورٹ اپیل دائر کریں گے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس معاملے میں پیمرا کا موقف سُنے بغیر ہی فیصلہ دیا گیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پرویز راٹھور کی بطور قائم مقام چیئرمین پیمرا تعیناتی کا نوٹیفیکیشن نیا نہیں تھا بلکہ جب اُنھیں پیمرا کا رکن تعینات کیا گیا تھا اُسی وقت اُنھیں کمیٹی میں شامل کیا گیا جو پیمرا کے مستقل چیئرمین کی عدم موجودگی میں اس کے اختیارات استعمال کرنے کی مجاز تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ عدالت نے قائم مقام چیئرمین کی طرف سے ہونے والے فیصلوں کو معطل نہیں کیا اور اُن کے فیصلے ابھی تک موجود ہیں۔

یاد رہے کہ پرویز راٹھور نے چھ جون کو جیو نیوز کے خلاف وزارتِ دفاع کی طرف سے دائر ہونے والی درخواست پر فیصلہ سُناتے ہوئے جیو نیوز کو 15 روز کے لیے بند کرنے کے ساتھ ساتھ ایک کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

واضح رہے کہ 19 اپریل کو صحافی حامد میر پر کراچی میں ہونے والے حملے کے بعد اُن کے بھائی کی طرف سے فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ پر اس حملے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس الزام کو جیو نے تقریباً آٹھ گھنٹے تک ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ظہیراسلام کی تصویر کے ساتھ نشر کیا۔

اس کے علاوہ پیمرا نے 21 جون کو نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کا لائسنس 15 روز جبکہ جیو انٹرٹینمنٹ کا لائسنس 30 روز کے لیے معطل کرنے کے علاوہ دونوں چینلوں پر ایک ایک کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔

یہ پابندی جیو انٹرٹینمنٹ پر مبینہ توہینِ مذہب پر مبنی پروگرام اور اے آر وائی پر عدلیہ مخالف پروگرام نشر کرنے پر لگائی گئی تھی۔

اس کے علاوہ مذکورہ عدالت نے تحفظِ پاکستان ایکٹ کے خلاف دائر کی جانے والی درخواست پر وفاق سے دو ہفتوں میں شق وار جواب مانگا ہے۔

رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کی طرف سے دائر ہونے والی اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس قانون کو سیاسی مخالفین کے لیے استعمال کیا جائے گا اور یہ قانون بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔

اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تحفظ پاکستان ایکٹ کالا قانون ہے جس کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو لامحدود اختیارات مل جائیں گے۔

سماعت کے دوران جسٹس نورالحق قریشی نے درخواست گُزار سے استفسار کیا کہ کیا اس ایکٹ سے متعلق کوئی درخواست سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے؟ جس پر درخواست گُزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ اُن کی اطلاعات کے مطابق اس قانون سے متعلق ایسی کوئی درخواست سپریم کورٹ میں زیر سماعت نہیں ہے۔ اس درخواست کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

اسی بارے میں