رواں سال کے سات ماہ میں پولیو کے 95 نئے کیس

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تین تازہ پولیو کیسز میں سے دو پشاور میں اور ایک سندھ کے شہر سانگھڑ میں سامنے آیا ہے

پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا اور سندھ سے پولیو کے چار نئے کیس آئے ہیں جس کے بعد رواں سال پولیو کیسز کی کُل تعداد 95 ہو گئی ہے۔

وزیر اعظم کے پولیو مانیٹرنگ سیل کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کے 13 اضلاع بشمول قبائلی علاقوں سے رواں سال پولیو کیسز کی تعداد 95 ہو گئی ہے۔

گذشتہ پورے سال یہ تعداد 93 تھی۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پچھلے سال اسی عرصے کے دوران 12 کیسز سامنے آئے تھے۔

چار تازہ پولیو کیسز میں سے ایک خیبر ایجنسی، دو پشاور میں اور ایک سندھ کے شہر سانگھڑ میں سامنے آیا ہے۔ سانگھڑ سے یہ اس سال کا پہلا پولیو کیس ہے۔

یاد رہے کہ عالمی ادارۂ صحت نے کہا تھا کہ پاکستان میں پولیو سے متاثر ہونے والے بچوں کی سب سے بڑی تعداد شمالی وزیرستان میں ہے۔

شمالی وزیرستان میں مقامی رہنماؤں نے جون 2012 سے پولیو مہم معطل کر دی تھی۔

عالمی ادارہ صحت نے متنبہ کیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے آغاز کے باعث بڑی تعداد میں نقل مکانی ہو رہی ہے اور اس نقل مکانی کے وجہ سے ملک کے دیگر علاقوں میں بھی پولیو وائرس پھیلنے کا خدشہ ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے کے مطابق دو سال سے زیادہ عرصہ ہوگیا ہے کہ شِمالی وزیرستان میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہیں پلائے جاسکے۔ اب جبکہ یہ آبادی موجودہ صورتحال کے پیش نظر اپنے علاقوں سے نقل مکانی کرکے باہر آئی ہے تو بھرپور موقع ہے کہ اِن افراد کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں۔

یاد رہے کہ اسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد میں آپریشن کے بعد سامنے آنے حقائق کے نتیجے میں جب یہ پتا چلا کہ اس میں ڈاکٹر شکیل آفریدی بھی شامل ہوئے تھے جس کے بعد سے پولیو کی مہم کو سب سے شدید جھٹکا لگا۔

اس کے بعد ہی سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں باالخصوص خیبر پختونخوا اور کراچی میں پولیو کے قطرے پلانے والوں پر حملے کیے گئے۔

مبصرین کے مطابق اس کے بعد سے پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں پر ہونے والے حملوں کی شدت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اسی بارے میں