عدنان رشید کی گرفتاری کی تصدیق نہ ہو سکی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption عدنان رشید سنہ 2012 میں بنوں جیل توڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تھے

سابق فوجی حکمران پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے اور بنوں جیل بریک کے ماسٹر مائنڈ عدنان رشید کی گرفتاری کی پاکستانی حکومت اور فوجی حکام تاحال تصدیق نہیں کر رہے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار ہارون رشید کے مطابق شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب میں اگرچہ پاکستانی فوج نے 450 سے زائد شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے تاہم طالبان قیادت میں سے کوئی بھی اہم نام اس میں شامل نہیں ہے۔

عدنان رشید کے ساتھ گزرے چند ماہ

انھوں نے کہا: ’ابھی تک کسی قابل ذکر شدت پسند رہنما کی ہلاکت یا گرفتاری کی خبر نہیں ملی ہے اور اگر عدنان رشید کی گرفتاری کی خبر درست ثابت ہوتی ہے تو پھر یہ ایسی پہلی شخصیت ہوں گے۔‘

پاکستان کی حکومت اور سکیورٹی حکام گذشتہ روز سے مقامی میڈیا پر گردش کرنے والی اس خبر کی تصدیق کرنے سے انکار کر رہے ہیں، تاہم پاکستانی میڈیا کالعدم تحریک طالبان اور مقامی خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے نام نہ ظاہر کرتے ہوئے عدنان رشید کی زخمی حالت میں جنوبی وزیرستان سے گرفتاری کے دعوے کر رہا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار شاہ زیب جیلانی کا کہنا ہے کہ عدنان رشید جیسے اہم شدت پسند کی گرفتاری کے حوالے سے صورتِ حال کنفیوژن کا شکار ہے تاہم فوج ذرائع کہتے ہیں کہ یہ چھپانے والی خبر نہیں۔

فوج کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا: ’اگر ہم نے یعنی فوج کے کسی ادارے نے عدنان رشید کو پکڑا ہوتا تو چھپانے کی ضرورت نہیں تھی، بلکہ یہ تو کامیابی کے طور پر سامنے آئے گا کہ دہشت گردوں کو مارا بھی جا رہا ہے اور ان کے اہم لوگ گرفتار بھی ہو رہے ہیں۔‘

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ نے اس خبر کی تصدیق نہیں کی لیکن ملکی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ تحریکِ طالبان رہنما عدنان رشید گذشتہ جمعرات سے فوج کی حراست میں ہیں۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر عدنان رشید گرفتار ہو گئے ہیں تو یقیناً یہ تحریک طالبان پاکستان کے لیے بڑا دھچکہ ہوگا کیونکہ کراچی ہوائی اڈے اور گذشتہ برس ڈیرہ اسمعیل خان جیل توڑنے جیسے حملوں کی منصوبہ بندی کی ذمہ داری عدنان رشید پر ہی ڈالی جا رہی ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کے رہنما عدنان رشید کا نام پہلی مرتبہ سابق صدر اور فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف پر راولپنڈی میں دسمبر سنہ 2003 میں حملے کے بعد سامنے آیا جس میں فوجی عدالت نے انھیں مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی تھی۔

عدنان رشید کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی کے گاؤں ’چھوٹا لاہور‘ سے بتایا جاتا ہے۔

انھوں نے سنہ 1997 میں پاکستان فضائیہ میں بطور ٹیکنیشن شمولیت اختیار کی لیکن بعد میں شدت پسند سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی بنیاد پر نکال دیے گئے۔

عدنان رشید گرفتار ہوئے یا نہیں اس خبر کی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے، تاہم کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے آپریشن ضرب عضب کے بعد سے اب تک چپ سادھ رکھی ہے۔

نامہ نگار شازیب جیلانی کہتے ہیں: ’پہلے تو آئے دن طالبان کے بیانات چلتے تھے تاہم اب تو پتہ ہی نہیں کہ وہ کہاں چلے گئے۔ طالبان کی خاموشی سے لگتا ہے کہ واقعی طالبان اب جان بچانے کے چکر میں ہیں اور شاید جب تک انھیں محفوظ ٹھکانہ نہیں ملے گا وہ اپنا نقطۂ نظر نہیں دیں گے اور منظر سے غائب رہیں گے۔‘

اسی بارے میں