وزیراعلیٰ کا بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے خیبر روڈ سے واپڈا ہاؤس پشاور تک صوبائی وزرا، اراکین صوبائی اسمبلی اور تحریک انصاف کے کارکنوں کے ہمراہ مارچ کیا

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے خبردار کیا ہے کہ اگر وفاق کی طرف سے صوبے کو اس کا بجلی کا جائز حق نہیں دیا گیا تو پھر یہاں سے پنجاب کو بھی بجلی بند کرنے سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔

وہ بدھ کو واپڈا ہاؤس پشاور میں اپنی قیادت میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف منعقدہ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کر رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا ہر سال ضرروت سے زیادہ بجلی، گیس اور تیل پیدا کر رہا ہے لیکن اسے نہ تو اپنی ضرورت کے تحت بجلی فراہم کی جا رہی ہے اور نہ گیس۔

پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ ’خیبر پختونخوا ہر سال ساڑھے تین ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کر رہا ہے اور صوبے کی ضرورت صرف 2400 میگا واٹ ہے، جبکہ 900 میگا واٹ بجلی صوبے کی ضرورت سے زیادہ ہے لیکن اس کے باوجود بھی صوبے کو اپنے کوٹے کی بجلی مل رہی۔‘

انھوں نے خبردار کیا کہ اگر واپڈا نے اپنا رویہ درست نہیں کیا تو صوبائی حکومت ان کو دی گئی سکیورٹی واپس لے لے گی۔

وزیر اعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر پنجاب ہمارے صوبے پر گندم بند کر سکتا ہے تو پھر ہم بھی ان پر بجلی بند کر سکتے ہیں۔‘

اس سے پہلے پرویز خٹک نے وفاق کی طرف سے بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی قیادت کی۔

وزیر اعلیٰ نے پشاور میں خیبر روڈ سے واپڈا ہاؤس تک صوبائی وزرا، اراکین صوبائی اسمبلی اور تحریک انصاف کے کارکنوں کے ہمراہ مارچ کیا۔

مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر وزیر اعظم نوازشریف اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے اس موقعے پر نواز شریف اور شہبار شریف کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔

مظاہرے میں پشاور سے تعلق رکھنے والے سکھ کمیونٹی کے افراد نے بھی حصہ لیا۔

ادھر پشاور میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافے کی وجہ سے نہ صرف شدید گرمی کے موسم اور رمضان کے مہینے میں عوام کو کئی قسم کی مشکلات کا سامنا ہے بلکہ اس سے مزدور طبقے کی مالی پریشانیاں بھی بڑھی ہیں۔

نصراف الدین پشاور صدر میں درزی کا کام کرتے ہیں۔ ان کا سیزن رمضان کے مہینے میں عروج پر ہوتا ہے لیکن بجلی کی بار بار بندش کے باعث اس ماہ کے دوران انھیں کمانے کی بجائے خسارے کا سامنا ہے۔

نصراف الدین نے بتایا کہ بجلی کی ناروا لوڈشیڈنگ کے باعث ان کے خرچے پورے نہیں ہو رہے جس کی وجہ سے بعض درزی پشاور چھوڑ کر افغانستان کا رخ کر رہے ہیں۔

پاکستان میں کچھ عرصے سے توانائی کا بحران وقت کے ساتھ ساتھ تیزی سے شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ سابق اور موجودہ حکومت کی طرف سے بجلی کے بحران پر قابو پانے کے کئی مرتبہ وعدے کیے گئے لیکن اس سلسلے میں عملی اقدامات کم ہی نظر آ رہے ہیں۔

اسی بارے میں