رائیونڈ میں آپریشن، دو شدت پسندوں سمیت تین ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ press association
Image caption پولیس اور فوج نے مل کر یہ آپریشن کیا

لاہور کے علاقے رائیونڈ میں وزیراعظم نواز شریف کی رہائش گاہ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ایک احاطے میں موجود مسلح افراد کے خلاف آپریشن دس گھنٹے کے بعد مکمل کر لیا گیا ہے۔

سی سی پی او لاہور ذوالفقار حمید نے آپریشن میں دو شدت پسندوں سمیت ایک سکیورٹی اہلکار کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔

اس سے پہلے صوبائی وزیر برائے انسدادِ دہشت گردی شجاع خانزادہ نے کہا تھا سکیورٹی اداروں اور مسلح افراد کے درمیان ہونے والی فائرنگ کے تبادلے میں ایک مسلح شخص ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا تھا۔

فائرنگ کا سلسلہ رات دو بجے اس وقت شروع ہوا جب سیکورٹی فورسز نے خفیہ اداروں کی اطلاع پر رائیونڈ کے رائیاں پنڈ کی الجنت کالونی میں ایک کمپاؤنڈ پر چھاپہ مارا اور وہاں موجود مسلح افراد نے اہلکاروں پر دستی بم سے حملہ کر دیا۔

صوبائی وزیر شجاع خانزادہ کہتے ہیں: ’دہشت گردوں کا ممکنہ ہدف وزیراعظم کی رہائش گاہ تھا۔ احاطے میں خواتین اور بچوں کی موجودگی کی اطلاع درست نہیں تھی۔ تاہم خواتین اور بچوں کی موجودگی کے خدشے کے پیش نظر حتمی کارروائی کو ملتوی کیا گیا۔ یہ آپریشن پولیس اور فوج نے مل کر کیا۔ مکان میں موجود مسلح افراد نے چھاپہ مارنے والی ٹیم پر دستی بم پھینکا جس سے ایک ایلیٹ اہلکار ہلاک ہوگیا جبکہ ایک اہلکار سپلنٹر لگنے سے زخمی ہوا۔‘

اس کے بعد بکتربند گاڑیاں بم ڈسپوزل سکواڈ، ایلیٹ فورس، رینجرز اور حساس اداروں کے اہلکاروں کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی اور کنٹرول سنبھال لیا۔

رات ہی کو علاقے میں سرچ آپریشن مکمل کر کے مکان کو محاصرے میں لے لیا گیا تھا۔ فائرنگ رات بھر جاری رہی، جس سے کئی اہلکار زخمی ہوئے۔ مکان کی دیواریں گولیوں کے نشانات اور شیلنگ سے چھلنی ہوگئیں، جبکہ احاطے میں لگنے والی آگ سے بہت سا حصہ سیاہ ہو گیا۔

صبح دو گھنٹے کے لیے فائرنگ روک دی گئی اور اردگرد کے مکان خالی کروا لیے گئے۔ پھر تقریباً 11 بجے کے بعد فائرنگ کے سلسلے میں دوبارہ شدت آ گئی۔ سکیورٹی اہلکاروں نے مکان کے گرد گھیرا تنگ کر کے پیش قدمی شروع کر دی۔

مکان میں داخل ہونے سے پہلے اندر دھماکہ خیز مواد پھینکا گیا، اور پھر بالآخر سکیورٹی اہلکار دیواریں پھلانگ کے اندر داخل ہوگئے۔ اللہ ہو اکبر کی صدائیں بلند ہوئیں، مکان کی تلاشی لی گئی اور اسے کلئیر قرار دے دیا گیا۔

آپریشن مکمل ہونے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے صوبائی وزیر شجاع خانزادہ نے بتایا کہ مسلح افراد کے پاس جدید اسلحہ تھا، جس میں دستی بم، کلاشنکوفیں ڈیٹونیٹر اور خودکش جیکٹیں شامل ہیں۔

پنجاب میں سکیورٹی اہلکاروں کو چند روز پہلے محکمہ داخلہ کی جانب سے یہ اطلاع دی گئی تھی کہ یومِ علی کے موقعے پر کچھ لوگ لاہور میں کارروائیاں کر سکتے ہیں۔ اسی اطلاع کے پیش نظر رات رائیاں پنڈ کے اس احاطے پر چھاپہ مارا گیا۔

زخمی اہلکاروں کو ہپستال منتقل کر دیا گیا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف نے ہلاک ہونے والے اہلکار کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ زخمی اہلکاروں کو علاج کی بہترین سہولتیں فراہم دی جائیں۔

صوبائی وزیر شجاع خانزادہ کا کہنا تھا کہ ’شمالی وزیرستان میں جو آپریشن ہو رہا ہے اس کا ردعمل کہیں بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ شرپسند تو ملک بھر میں پھیل چکے ہیں۔‘

انھوں نے کہا: ’ہمیں پہلے سے اندیشہ تھا کہ یہ تو ہوگا اس لیے یہاں پر سکیورٹی اداروں نے نظر رکھی ہوئی تھی جس کے نتیجے میں یہ کارروائی کی گئی۔‘

اسی بارے میں