نواز شریف کا دورۂ جی ایچ کیو، فوج کو خراجِ تحسین

تصویر کے کاپی رائٹ pid
Image caption جی ایچ کیو کے غیر متوقع دورے کے موقعے پر وزیراعظم کے ہمراہ وفاقی وزیرِ دفاع، وزیر داخلہ، اور وزیر خزانہ بھی تھے

پاکستان کے وزیرِاعظم نواز شریف نے جمعرات کو افواج پاکستان کے جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی کا دورہ کیا جہاں انھیں شمالی وزیرستان میں جاری آپریش ضربِ عضب پر بریفنگ دی گئی۔

وزیرِ اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق وزیراعظم کو ڈی جی ایم او نے آپریشن ضربِ عضب میں ہونے والی پیش رفت اور دیگر امور پر بریفنگ دی۔

بیان کے مطابق جی ایچ کیو کے دورے کے موقعے پر نواز شریف کے ہمراہ وفاقی وزیرِ دفاع، وزیر داخلہ، وزیر خزانہ، مشیر برائے قومی سلامتی اور خارجہ امور میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی بھی موجود تھے۔

وزیرِ اعظم نے ملک کے دفاع کے لیے اور شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب میں فوجی اہلکاروں کی قربانیوں کی تعریف کی۔

وزیراعظم نے شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن میں حاصل ہونے والے نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ افواج طے شدہ اہداف حاصل کر رہی ہیں اور پوری قوم امن اور استحکام کی خاطر میدان جنگ میں لڑنے والے فوجی جوانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

ملاقات میں شدت پسندوں کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کی جانب سے موثر مقدمات نہ چلنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ اس سے افواج پر منفی اثر پڑتا ہے۔

افواج پاکستان کو مکمل قانونی حمایت فراہم کرنے اور جنگ کے لیے تمام ضروری وسائل فراہم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

وزیراعظم نے متاثرہ علاقے میں ہونے والی تباہی اور وہاں کی بحالی کے لیے بہتر منصوبہ بندی کرنے کی ہدایات بھی جاری کیں۔

انھوں نے بنوں میں متاثرین کی تصدیق کے لیے نادرا میں مزید عملے کی تعیناتی کرنے کو بھی کہا۔

اس موقعے پر نواز شریف کا کہنا تھا: ’آپریشن کا مقصد ریاست کی رٹ بحال کرنا ہے، فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایجنسیوں کی جانب سے شدت پسندوں کے خاتمے تک انکا پیچھا جاری رہے گا۔‘

سول اور ملٹری قیادت کے اجلاس میں جمعرات کو وزیراعظم کے رائے وینڈ ہاؤس سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر شدت پسندوں کے خلاف ہونے والی کامیاب کاروائی کی تعریف بھی کی گئی اور اسے خفیہ ایجنسیوں کے اشتراک کی بنیاد قرار دیا گیا۔

بیان کے مطابق اس ملاقات میں آرمی چیف کے ہمراہ چیف آف جنرل سٹاف ڈی جی ایم او، ڈی جی آئی ایس پی آر بھی موجود تھے۔

دوسری جانب صدر اور وزیراعظم نے جمعرات کو لاہور میں شدت پسندوں کے خلاف کیے جانے والے آپریشن کی کامیابی پر پولیس کو مبارک باد دی ہے۔

اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ لاہور آپریشن خفیہ معلومات کے موثر تبادلہ خیال کا نتیجہ ہے اور ایسا کرنے سے ’دہشت گردی‘ کے خلاف کامیابی مل سکتی ہے۔

’لاہور پولیس دہشت گردوں کے ٹھکانوں میں جراتمندی سے داخل ہوئی اور انھیں ختم کر دیا۔‘

جی ایچ کیو کے دورے سے قبل میاں نواز شریف نے چیرمین جوائینٹس چیف آف سٹاف کمیٹی جنرل راشد محمود سے بھی ملاقات کی جس کا موضوع ملکی اور علاقائی سلامتی کے امور تھا۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز بھی وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان اسلام آباد میں ملاقات ہوئی تھی۔ وزیراعظم کی مسلح افواج کے سربراہ اور دیگر سکیورٹی حکام کے ساتھ اسلام اباد میں ملاقاتیں تو ہوتی رہتی ہیں لیکن جی ایچ کیو میں وزیراعظم کا دورہ معمول کی بات نہیں۔

اسی بارے میں