کیا پیپلز پارٹی عمران خان کا ساتھ دے گی؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption عمران خان کی جانب سے بات اب چار حلقوں کی دوبارہ گنتی تک محدود نہیں رہی، بلکہ اب تو مڈٹرم الیکشن کا مطالبہ کیا جا رہا ہے

کہتے ہیں کہ اختلاف اور احتجاج جمہوریت کا حسن ہوتا ہے۔ اگر اس پیمانے سے جانچا جائے تو شاید دنیا میں پاکستانی جمہوریت سے زیادہ حسین کم ہی جمہوریتیں ہوں گی جہاں عام انتخابات کے ایک برس بعد ہی حالات اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ حکومت کے احتجاج ’انقلاب‘ اور ’سونامی‘ میں گرنے کا دھڑکا ہروقت لگا رہتا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 14 مارچ کی کال کے مقاصد پر ابھی میڈیا میں بحث جاری تھی کہ نیم حکومت اور نیم اپوزیشن کی جماعت پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری نے بھی وزیراعظم نواز شریف کو تنبیہ کر دی کہ وہ بادشاہ نہ بنیں اور تحریک انصاف کے چار حلقوں کے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے مطالبے کو تسلیم کر لیں۔

تجزیہ نگار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کہتے ہیں کہ وفاقی حکومت نے پیپلزپارٹی کی قیادت اور زرداری پر مقدمات دوبارہ کھول دیے ہیں اس لیے اب جبکہ حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے، پیپلزپارٹی بھی حکومت پر جوابی دباؤ ڈالے گی۔

دوسرے یہ کہ سندھ میں حال ہی میں وزیر اعظم نے دورہ کر کے وہاں وفاقی حکومت کی طرف سے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ اس سے پیپلز پارٹی کو محسوس ہوا کہ نواز شریف سندھ حکومت کی ساکھ کو متاثر کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے پیپلز پارٹی کو اب اپوزیشن جماعت کی آزادانہ سیاسی حیثیت کو باور کروانا چاہیے۔

عمران خان کی جانب سے بات اب چار حلقوں کی دوبارہ گنتی تک محدود نہیں رہی۔ بلکہ اب تو وسط مدتی الیکشن کامطالبہ کیا جارہا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی میں شعبۂ سیاسیات کی چئیر پرسن ڈاکٹر عنبرین جاوید کہتی ہیں کہ ’مڈٹرم الیکشن اس صورت میں ہوسکتے ہیں کہ وزیراعظم پارلیمنٹ سے باہر بڑھنے والے سیاسی دباؤ کے تحت ازخود اسمبلیاں تحلیل کر دیں۔‘

ایک صورت یہ بھی ہے کہ ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو جائے تو اس سے بھی حکومت ختم ہو سکتی ہے۔ اور اگر اسمبلی کوئی اور وزیر اعظم منتخب کرنے میں ناکام رہے تو پھر ایسے حالات بن سکتے ہیں کہ قومی اسمبلی تحلیل کرنا پڑے اور معاملات مڈٹرم الیکشن کی طرف چلے جائیں۔‘

تاہم سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ تحریک انصاف کا مڈٹرم انتخابات کا مطالبہ حکومت پر دباؤ بڑھانے اور اسے مفلوج کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے، اس کے سوا کچھ نہیں۔

کالم نگار وجاہت مسعود کہتے ہیں: ’وسط مدتی انتخابات کے لیے کوئی ٹھوس جواز ہونا ضروری ہے۔ اس کے کچھ آئینی تقاضے ہوتے ہیں۔ کسی مضبوط اپوزیشن اتحاد کی غیرموجودگی میں محض ایک سیاسی جماعت کے مطالبے پر تو مڈٹرم انتخابات نہیں ہوسکتے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اب تو آصف علی زرداری نے بھی وزیراعظم نوازشریف کو تنبیہ کر دی کہ وہ بادشاہ نہ بنیں اور چار حلقوں کے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے مطالبے کو تسلیم کر لیں

پاکستان کی کچھ جماعتیں اور شخصیات عمران خان کے آزادی مارچ کی حمایت تو کر رہی ہیں لیکن ان جماعتوں کی سیاسی طاقت نہ ہونے کے برابر ہے۔ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہرالقادری تو پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ وسط مدتی انتخابات سے انقلاب یا تبدیلی نہیں آ سکتی بلکہ اس سے تو موجودہ نظام کا جمود برقرار رہے گا۔ اور اگر عمران خان اپنی جدوجہد سے حکومت گرانے میں کامیاب ہو بھی گئے تو ن لیگ سیاسی ’شہید‘ بن جائے گی۔

ایسی صورت میں بظاہر اپنی مقبولیت اور حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت ہونے کی حثیت کھوتی ہوئی پیپلز پارٹی کی سیاسی حکمت عملی اہم ہو جاتی ہے، اور زمینی حقائق کے مطابق حکومت کی تبدیلی کے تحریک انصاف کے نعرے کا مقدر پیپلز پارٹی کے اس فیصلے سے وابستہ ہوجاتا ہے کہ وہ اس جدوجہد میں کس حد تک عمران خان کا ساتھ دے گی۔

تجزیہ نگار حسن عسکری کے مطابق: ’سابق صدر زرداری کے ن لیگ کے حالیہ تنقیدی بیان کے باوجود پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے اپوزیشن اتحاد بنانے اور حکومت پر دباؤ بڑھانے کے امکانات اس لیے بھی کم ہیں کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی انتہائی کمزور ہے اور اگر وہ تحریک انصاف سے ملتے ہیں تووہ بڑی پارٹی کی حثیت سے نہیں مل سکتے انھیں عمران خان کی قیادت ماننا پڑے گی، جو پیپلزپارٹی کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔

اس لیے پیپلزپارٹی ابھی مخمصے میں ہے۔ وہ حکومت پر دباؤ تو ڈالنا چاہتے ہیں لیکن ابھی سڑکوں پر آنا نہیں چاہتے۔‘

جبکہ کالم نگار وجاہت مسعود پی ٹی آئی اور پی پی پی کے اتحاد کے امکان کو ازسرِ نو رد کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’2006 میں پاکستان کی دو بڑی جماعتوں نے میثاق جمہوریت کیا اور بہت سی دوسری جماعتوں نے اس کے نکات کی حمایت کی کہ وہ حکومت کی مدت کے حوالے سے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاست کریں گے اور ایک دوسرے کی منتخب حکومت کو وقت سے پہلے گرانے کی کوشش نہیں کی جائے گی۔ چھوٹے موٹے اختلافات اور کھینچاتانی کے باوجود پیپلز پارٹی مثیاق جمہوریت پر عمل کرتی رہے گی۔‘

اسی بارے میں