ہزاروں آئی ڈی پیز کراچی اور اسلام آباد منتقل

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سرکاری اہلکار کے مطابق رجسٹریشن کے دوران متاثریں سے 1100 جعلی شناختی کارڈ بھی برآمد ہوئے ہیں

پاکستان کی وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کی وجہ سے بےگھر ہونےوالے افراد تقریباً دس لاکھ کل رجسٹرڈ تعداد میں سے سات فیصد دارالحکومت اسلام آباد اور کراچی منتقل ہو گئے ہیں۔

حکومت نے آئی ڈی پیز کی رجسٹریشن کے عمل کے مکمل ہونے پر کہا ہے کہ آئی ڈی پیز کی بحالی کے لیے غیر ملکی امداد کی اپیل نہیں کریں گے اور اگر کسی ملک نے ازخود امداد دینے کی پیش کش کی توانکار نہیں کیا جائےگا۔

پاکستان کی وزارتِ سرحدی و قبائلی امور کے جوائنٹ سیکریٹری طارق حیات خان نےجمعے کے روز اسلام آباد میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن سے متاثرہ افراد کی رجسٹریشن کا عمل مکمل ہوگیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں سے مزید آئی ڈی پیز نہیں آ رہے ہیں اور اب تک 992649 افراد کا اندراج ہو چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی ادارے نادرا کی جانب سے رجسٹریشن کی جانچ پڑتال کے بعدآئی ڈی پیز کی اصل تعداد واضح ہوجائے گی کیونکہ اس میں بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جنھوں نے ایک سے زیادہ مقامات پر رجسٹریشن کروائی ہے۔

انھوں نے کہا کہ 92 ہزار خاندانوں میں اب تک خوراک کی ایک لاکھ 27 ہزار تھیلے تقسیم کیے جائے چکے ہیں جس میں آٹا، چینی اور گھی سمیت ضرورت کی تمام چیزیں موجود ہوتی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن سے متاثرہ اسّی فیصد افراد بنوں کے مختلف علاقوں میں رہائش پزیر ہیں جبکہ پانچ فیصد لوگ ڈیرہ غازی خان اور چھ فیصد لوگ لکی مروت گئے ہیں۔ اس کے علاوہ سات فیصد کے قریب کراچی اسلام آباد اور دیگرعلاقوں میں منتقل ہوچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ متاثرین میں امداد کی تقسیم کے لیے بنوں میں چھ، لکی مروت اور ڈی آئی خان میں ایک ایک مرکز قائم کیا گیا ہے۔

سرکاری اہلکار کے مطابق رجسٹریشن کے بعد ان متاثرین میں بھی رقوم تقسیم کیے جائیں گے جو اس وقت کیمپوں کی بجائے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ رہ رہے ہیں کیونکہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی بے گھر شخص کو زبردستی کیمپ میں رہنے پر مجبور نہیں کیا جائےگا۔

انھوں نے کہا کہ رجسٹریشن کے دوران متاثریں سے 1100 جعلی شناختی کارڈ بھی برآمد ہوئے ہیں۔

طارق حیات خان نے کہا کہ حکومتِ پاکستان نے آئی ڈی پیز کی بحالی کے لیے تاحال کسی عالمی ادارے سے امداد کی اپیل نہیں کی ہے لیکن اگر اقوام متحدہ سمیت کسی ملک نے امداد دینے کی پیش کش کی تواسےمسترد نہیں کریں گے۔

انھوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے علاقے میں مختلف امدادی کام شروع کر رکھے ہیں۔ اس کےعلاوہ کام کرنے والے دیگر ملکی اور غیرملکی این جی اوز کو مکمل تحفظ فراہم کیا جارہا ہے۔

طارق حیات خان نے وزیرستان میں آپریشن کے دوران آئی ڈی پیز کا افغانستان جانے کے حوالے سے کہا کہ افغانستان آج تک اپنے مہاجرین کو نہ سنبھال سکی ہے اور تاحال 32 لاکھ افغان مہاجرین پاکستان میں آباد ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ آپریشن کے باعث افغانستان جانے والے21 ہزار آئی ڈی پیز واپس پاکستان آچکے ہیں۔

تاہم افغانستان میں موجود بی بی سی پشتو کے نامہ نگار نقیب اللہ متونوال کا کہنا ہے کہ افغان حکومت کا دعویٰ ہے کہ وزیرستان میں آپریشن کی وجہ سے افغانستان ہجرت کرنے والا کوئی بھی خاندان واپس پاکستان نہیں لوٹا۔

افغانستان کے دارلحکومت کابل میں سرحدوں اور قبائل کے وزیر ڈاکٹر محمد اکرم کی سربراہی میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں اقوام متحدہ اور بین القوامی برادی سے اپیل کی گئی کہ وہ پاکستان سے نقل مکانی کرنے والے افراد کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے حکومت کی مدد کریں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ اس وقت افغانستان سے ملحقہ صوبوں پکتیکا اور خوست میں شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کر کے آنے والے 17 ہزار خاندان تقریباً 143000 افراد پر مشتمل ہیں۔

اسی بارے میں