وزیرستان میں امریکی ڈرون حملہ، پاکستان کی مذمت

تصویر کے کاپی رائٹ AP

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ میں ہفتے کو ہونے والے ڈرون حملے کی مذمت کی ہے۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈرون حملے پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کی خلاف ورزی ہے۔

وزارتِ خارجہ کے اس مخصتر بیان میں کہا گیا کہ ماضی میں بھی کئی بار یہ واضح کیا جا چکا ہے کہ اس نوعیت کے حملے حکومت پاکستان کی طرف سے قبائلی علاقوں میں امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔

شمالی وزیرستان کی پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق شدت پسندوں کے مرکز پر ہونے والے اس امریکی ڈرون حملے میں کم سے کم چھ شدت پسند ہلاک ہوگئے تھے۔

پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق یہ حملہ سنیچر کی صبح سحری کے وقت دتہ خیل تحصل کے علاقے ڈوگا مداخیل گاؤں میں ہوا۔

امریکی جاسوس طیارے سے شدت پسندوں کے مرکز پر دو میزائل داغےگئے جس سے وہاں موجود کم سے کم چھ افراد ہلاک ہوئے۔ بعض مقامی ذرائع نے ہلاکتوں کی تعداد زیادہ بتائی ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کا تعلق پنجابی طالبان کے گروپ سے بتایا جاتا ہے تاہم سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی جاسکی ہے۔

خِیال رہے کہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن ضربِ عضب کے آغاز کے بعد سے علاقے میں یہ اپنی نوعیت کا تیسرا امریکی ڈرون حملہ ہے۔ اس سے پہلے ہونے والے حملے بھی دتہ خیل تحصیل کے علاقے میں ہوئے تھے۔

دتہ خیل پاک افغان سرحد کے قریب واقع ایک دور افتادہ علاقہ ہے۔ یہاں اس سے پہلے کئی مرتبہ امریکی جاسوس طیاروں حملے کر چکے ہیں جس میں کئی اہم ملکی اور غیر ملکی عسکریت پسند کمانّڈر مارے جا چکے ہیں۔

بعض مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان فوج کی طرف سے جاری آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں بیشتر شدت پسند پاک افغان سرحدی علاقوں کی جانب منتقل ہوگئے ہیں۔ ان کے مطابق غالب امکان ہے کہ دتہ خیل تحصیل میں بھی عسکریت پسندوں نے پناہ لے لی ہو یا وہاں اپنے لیے نئی پناہ گاہیں تلاش کر رہے ہوں۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آپریشن ضرب عضب شمالی وزیرستان کے دو اہم علاقوں میرانشاہ اور میرعلی تحصیلوں میں کیا جا رہا ہے جہاں فوج کے مطابق تقریباً 80 فیصد علاقے پر سکیورٹی فورسز کو کنٹرول حاصل ہوگیا ہے۔

اسی بارے میں