دتہ خیل میں ڈرون حملے میں چھ افراد ہلاک

Image caption اہلکاروں کا کہنا ہے کہ امریکی جاسوس طیارے سے شدت پسندوں کے ایک مرکز پر دو میزائل داغے گئے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پولیٹکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے مرکز پر ہونے والے ایک امریکی ڈرون حملے میں کم سے کم چھ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق یہ حملہ سنیچر کی صبح سحری کے وقت دتہ خیل تحصل کے علاقے ڈوگا مداخیل گاؤں میں ہوا۔

اہلکاروں کا کہنا ہے کہ امریکی جاسوس طیارے سے شدت پسندوں کے ایک مرکز پر دو میزائل داغےگئے جس سے وہاں موجود کم سے کم چھ افراد ہلاک ہوئے۔ بعض مقامی ذرائع نے ہلاکتوں کی تعداد زیادہ بتائی ہے۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کا تعلق پنجابی طالبان کے گروپ سے بتایا جاتا ہے تاہم سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی جاسکی ہے۔

خِیال رہے کہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن ضربِ عضب کے آغاز کے بعد سے علاقے میں یہ اپنی نوعیت کا تیسرا امریکی ڈرون حملہ ہے۔ اس سے پہلے ہونے والے حملے بھی دتہ خیل تحصیل کے علاقے میں ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ دتہ خیل پاک افغان سرحد کے قریب واقع ایک دور افتادہ علاقہ ہے۔ یہاں اس سے پہلے کئی مرتبہ امریکی جاسوس طیاروں نے حملے کر چکے ہیں جس میں کئی اہم ملکی اور غیر ملکی عسکریت پسند کمانّڈر مارے جا چکے ہیں۔

بعض مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان فوج کی طرف سے جاری آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں بیشتر شدت پسند پاک افغان سرحدی علاقوں کی جانب منتقل ہوگئے ہیں۔ ان کے مطابق غالب امکان ہے کہ دتہ خیل تحصیل میں بھی عسکریت پسندوں نے پناہ لے لی ہو یا وہاں اپنے لیے نئی پناہ گاہیں تلاش کر رہے ہوں۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آپریشن ضرب عضب شمالی وزیرستان کے دو اہم علاقوں میرانشاہ اور میرعلی تحصیلوں میں کیا جا رہا ہے جہاں فوج کے مطابق تقربناً 80 فیصد علاقے پر سکیورٹی فورسز کو کنٹرول حاصل ہوگیاہے۔

اسی بارے میں