’نواز شریف نے کابل بھیجا کیونکہ کچھ ہونے والا تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’وزیر اعظم پاکستان کا اصرار تھا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان نہ تو کسی قسم کی غلط فہمی نہیں چاہتے اور نہ ہی کسی قسم کی خطرناک صورتحال‘

پاکستان کی سیاسی جماعت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان نے ان کو اس لیے افغانستان بھجوایا تھا کیونکہ انھیں اطلاعات ملی تھیں کہ ’ادھر سے کچھ ہونے والا تھا‘۔

بی بی سی پشتو کو لندن میں ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے میں اچکزئی نے کہا کہ پاکستان وزیر اعظم نے انھیں بتایا کہ ایسی مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ’ادھر سے کچھ ہونے والا ہے۔‘

اچکزئی نے کہا کہ ’وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف کا اصرار تھا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان نہ تو کسی قسم کی غلط فہمی ہونی چاہیے اور نہ ہی کسی قسم کی خطرناک صورتحال۔‘

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ نے بتایا کہ کابل کے دورے پر سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری بھی ان کے ہمراہ تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ کابل کے دورے پر ان کی افغان صدر حامد کرزئی اور دیگر افغان حکام سے دو ملاقاتیں ہوئیں جن میں سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری بھی موجود تھے۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ دونوں ممالک کو پوری دنیا کے سامنے یہ کہنا ہوگا کہ ایک دوسرے کی خود مختاری کا احترام کیا جائے گا۔

’ایک بار یہ کہہ دیا گیا تو افغان طالبان افغانستان کی حکومت اور پاکستانی طالبان پاکستان کی حکومت سے بات چیت کریں گے۔‘

یاد رہے کہ جولائی کے شروع میں افغانستان کے آٹھ رکنی فوجی وفد نے جی ایچ کیو میں ڈی جی ملٹری آپریشن میجر جنرل عامر ریاض سے ملاقات کی تھی۔

افغان وفد کی قیادت ڈی جی ملٹری آپریشنز میجر جنرل افضان امان کر رہے تھے جبکہ وفد میں افغان نیشنل سکیورٹی کونسل، افغان ملٹری انٹیلی جنس اور افغان بارڈر پولیس کے نمائندے شامل تھے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق اس ملاقات میں افغان صوبوں کنڑ اور نورستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور وہاں پاکستان کے سرحدی علاقوں میں حملوں کے معاملات بھی بات ہوئی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سرحد پار سے گولہ باری کے واقعات کے بارے میں بات کرتے ہوئے پاکستانی حکام نے افغان وفد کو آگاہ کیا کہ پاکستانی علاقے سے افغانستان میں کبھی بھی بلااشتعال فائرنگ نہیں کی گئی اور پاکستان افغان علاقے سے دہشت گردوں کے حملے یا فائرنگ پر ہی اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کرتا ہے۔

ملاقات میں سرحدی رابطوں کے نظام اور سرحد پر تعاون کے طریقۂ کار بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ دونوں ممالک کے حکام نے موثر سرحدی میکینزم بنانے پر بھی اتفاق کیا۔

اسی بارے میں