’غیر حاضر‘ رابط کمیٹی معطل، معذرت کرنے پر بحال

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ گذشتہ بیس سال سے خود ساختہ جلاوطنی اختیار کیے ہوئے ہیں اور لندن میں قیام پذیر ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ معطل ارکان کوان کی ذمہ داریوں پر بحال کردیاگیا ہے اور ایم کیوایم کے سربراہ الطاف حسین نے بھی رابطہ کمیٹی کے اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔

ایم کیو ایم کے اعلامیے کے مطابق الطاف حسین نے رابطہ کمیٹی لندن اور پاکستان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تمام ارکان کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو پہچانیں اور اپنے فرائض کی ادائیگی میں کسی بھی طور پر غفلت اورکوتاہی نہ برتیں۔

مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ رابطہ کمیٹی کے اراکین نے انفرادی طور پر تحریری طور پر معذرت کی جس کے بعد انہیں بحال کردیا گیا۔

اس سے پہلے کی اطلاعات کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے تنظیم کے فیصلہ ساز ادارے رابطہ کمیٹی کے19 اراکین کو غیرمعینہ مدت کےلیے معطل کر دیا تھا۔

ایم کیو ایم کے اعلامیے کے مطابق بروز اتوار لندن وقت کے مطابق صبح 7 بج کر 5 منٹ اور پاکستانی وقت کے مطابق صبح 11 بج کر 5 منٹ پر نائن زیرو فون کرکے حاضری لی گئی تو نائٹ ڈیوٹی پر موجود رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینرز ڈاکٹر نصرت شوکت، ڈاکٹر خالدمقبول صدیقی اور رابطہ کمیٹی کے رکن گل فراز خان خٹک سو رہے تھے۔

ایم کیو ایم کے مطابق ان اراکین نے جاگ کر بتایا کہ وہ رات کی ڈیوٹی پر تھے اور ابھی اٹھے ہیں جس پر الطاف حسین نے پوچھا کہ بس رات کی ڈیوٹی کے لوگ ہیں اور ابھی صبح تک کوئی نہیں پہنچا؟ تو سب کا مشترکہ جواب تھا ’نہیں کوئی نہیں پہنچا‘۔ جس پر انیس اراکین کو معطل کردیا گیا۔

معطل کیےگئے اراکین میں حیدر عباس رضوی، نسرین جلیل، رشید گوڈیل، ڈاکٹر صغیر احمد، کنور نوید، عادل صدیقی، یوسف شاہوانی، امین الحق اور دیگر شامل تھے۔

یاد رہے کہ ایک سال قبل بھی تحریک انصاف کی جانب سے الطاف حسین پر تنقید اور تنظیم کی جانب سے دفاع نہ کرنے پر ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر ایک اجتماع کے دوران رابطہ کمیٹی کو معطل کردیا گیا تھا، جس کے بعد ڈپٹی کنوینر اور اراکین میں تبدیلی کی گئی تھی۔

اسی بارے میں