وزیرستان آپریشن: پاکستانی شدت پسند افغانستان میں اکھٹے

Image caption پاکستانی طالبان کے افغانستان منتقل ہونے کی وجہ سے افغان طالبان کی افرادی قوت میں اضافہ ہو گیا ہے جو وہاں حملوں میں شدت کا باعث بنا ہے

اطلاعات کے مطابق پاکستانی فوج کی جانب سے 15 جون سے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جاری کارروائی کے نتیجے میں پاکستانی طالبان نے بڑی تعداد میں افغانستان کا رخ کیا ہے۔

بعض افغان تجزیہ کار کابل اور دیگر علاقوں میں طالبان کے حملوں میں اضافے کی ایک وجہ ان شدت پسندوں کی آمد کو بھی قرار دے رہے ہیں لیکن پاکستان میں اس بارے میں شکوک و شبہات موجود ہیں۔

شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کو ایک ماہ سے زیادہ وقت گزر چکا ہے اور فوج ساڑھے چار سو سے زائد ملکی اور غیر ملکی شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کر رہی ہے، لیکن ایک اندازہ یہ بھی ہے کہ شدت پسند، خصوصاً ان کی قیادت، بڑی تعداد میں کارروائی کے آغاز سے قبل ہی وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔

اب افغانستان سے اطلاعات ہیں کہ پاکستانی شدت پسندوں کی خاصی تعداد وہاں پہنچی ہے اور حکومت مخالف کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہے۔ افغانستان کے قندہار صوبے سے شائع ہونے والے آزاد روزنامہ گرداب نے چند روز قبل ایک رپورٹ میں الزام عائد کیا تھا کہ سرحدی چوکیوں اور صوبہ ہلمند کے سنگین ضلع میں حملوں کے پیچھے لشکر طیبہ کا ہاتھ تھا۔

اخبار نے اپنے ذرائع سے لکھا کہ لشکر طیبہ کے رشید پنجابی نامی شخص نے ان حملوں میں حصہ لیا۔

مغربی اخبارات میں ایک سینیئر افغان طالبان رہنما قاری طلحہ کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان سے آنے والے شدت پسندوں کے سیلاب کو فوری طور پر پورے افغانستان میں تعینات کر دیا گیا ہے: ’اس سال ہمارے پاس زیادہ تعداد میں جنگجو موجود ہیں جنھیں کابل اور ہلمند جیسے علاقوں میں بھیجا گیا ہے۔‘

سینیئر افغان صحافی سمیع یوسفزئی کہتے ہیں کہ ہر سال موسم گرما میں ویسے ہی شدت پسند سرگرمیوں میں اضافہ ہو جاتا ہے اور پاکستانی شدت پسند وہاں زیادہ توجہ دیتے ہیں۔

تاہم وہ کہتے ہیں کہ افغانستان پاکستان کے مقابلے میں ان کے لیے زیادہ خطرناک ہے: ’شمالی وزیرستان کی طرح کسی ایک مقام پر برسوں تک آرام سے رہنا افغانستان میں ممکن نہیں۔ دو تین جگہوں کے علاوہ افغانستان میں ایسے مقامات کم ہیں جہاں وہ رہ سکیں۔ افغان طالبان مسلسل حرکت میں رہتے ہیں۔ ایک دن حملہ کرتے ہیں اور دوسرے دن دوسری جگہ منتقل ہو جاتے ہیں۔‘

سمیع کہتے ہیں کہ افغانستان میں مختلف علاقوں میں ان کی طالبان سے بات ہوئی ہے اور انھوں نے تازہ کھیپ کے آنے کی تصدیق کی ہے۔ البتہ وہ بتاتے ہیں کہ طالبان کی کوشش ہے کہ سال 2014 میں جانی نقصان کم رکھیں تاکہ وہ غیرملکی افواج کے انخلا کے بعد کے دور کے لیے تیار ہوں۔

’اب چونکہ انھیں پاکستانی طالبان بونس میں ملے ہیں تو اب بڑے حملوں میں اضافہ ہوا ہے جیسے کہ ہلمند میں اور کابل ہوائی اڈے پر۔ افغان طالبان بڑی بےپروائی سے پاکستانیوں کو استعمال کر رہے ہیں۔‘

شدت پسندوں کی درست تعداد ہمیشہ معما رہی ہے۔ اس مرتبہ بھی معلوم نہیں کہ کتنے پاکستانی طالبان نے افغانستان کا رخ کیا ہے۔ غیرقانونی تحریک طالبان پاکستان کی قیادت پہلے ہی وہاں موجود بتائی جاتی ہے۔

پاکستان میں شدت پسندی کے واقعات پر نظر رکھنے والے صحافی حسن خان کہتے ہیں کہ شمالی وزیرستان کا آپریشن جغرافیائی اعتبار سے محض مرکزی شاہراہ کے ساتھ کے علاقوں تک محدود ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’فی الحال کارروائیاں سیدگئی سے میرعلی اور میران شاہ سے ہوتے ہوئے بویا اور دتہ خیل تک محدود ہیں۔ جو اطلاعات ہیں کہ شدت پسند شوال، سپن وام اور گڑی وام جیسے علاقوں میں ہیں، تو وہاں پاکستانی سکیورٹی فورسز کی موجودگی نہیں ہے۔ ان شدت پسندوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان علاقوں میں مزید کارروائی ہوئی تو وہ افغانستان جا کر وہاں سے جوابی کارروائیاں کریں گے۔ لہٰذا جو طالبان فی الحال نہیں گئے، جب بہت مشکل ہوئی تو وہ بھی چلے جائیں گے۔‘

شمالی وزیرستان میں کارروائی اور افغانستان سے غیرملکی فوجوں کا انخلا کے سال 2014 کی وجہ سے ماہرین اس خطے میں شدت پسندوں کی صفوں میں اتھل پتھل کی توقع کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں