انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل میں تاخیر

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption تحریک انصاف مبینہ دھاندلی کے خلاف 14 اگست کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کر رہی ہے

پاکستان کی حکومت کو ملک میں انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل دینے میں تاحال تاخیر کا سامنا ہے اور اس کی بڑی وجہ کمیٹی میں سینیٹروں کی نمائندگی ہے۔

مبصرین کےمطابق کمیٹی بنانے کا مقصد تحریک انصاف کے 14 اگست کو اسلام آباد کی جانب کیے جانے والے لانگ مارچ کمزور کرنا ہے۔ تاہم تحریک انصاف نےکہا ہے کہ حکومتی اعلان کے باوجود انتخابات میں دھاندلی کے خلاف لانگ مارچ ضرور ہوگا۔

قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق تاحال انتخابی اصلاحات کے لیے مجوزہ پارلیمانی کمیٹی میں شامل ارکان کے ناموں کا اعلان نہیں کر سکے کیونکہ حزب اختلاف کی سب سے بڑ ی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سمیت اکثر پارٹیوں نے مذکورہ کمیٹی کے لیے اب تک سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ارکان کے نام ارسال نہیں کیے ہیں۔

اس بارے میں پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور سینیٹر میاں رضا ربانی نے بی بی سی کو بتایا کہ پالیمانی کمیٹی کے لیے ناموں پر پارٹی کے اندر مشاورت جاری ہے اور ہماری کوشش ہے کہ جمعرات تک نام ایوان بالا میں جمع کرا دیں۔

تاہم قومی وطن پارٹی کےسربراہ اور رکن قومی اسمبلی آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے بتایا کہ کمیٹی میں سینیٹروں کو نمائندگی دینے کی وجہ سے اعلان میں تاخیر ہو رہی ہے۔

انھوں نے ایک آزاد اور خود مختار الیکشن کمیشن کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اٹھارویں ترمیم میں وزیراعظم اور حزب اختلاف کے لیڈر کو نگران سیٹ اپ بنانے کا جو اختیار دیاگیا ہے اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ گذشتہ سال مئی میں ہونے والے انتخابات میں نگران حکومت دھاندلی پر قابو پانے میں ناکام رہی تھی۔

خیال رہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے دس جون کو قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کو لکھا تھا کہ وہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے ارکان پر مشتمل ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیں۔

کمیٹی بنانے کا خیر مقدم کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نےکہا کہ ان کا لانگ مارچ گذشتہ سال ہونے والے انتخابات میں دھاندلی کے خلاف ہے جو ہر پارٹی کا سیاسی، جمہوری اور آئینی حق ہے۔

انھوں نے افغانستان کی طرح یہاں بھی ملکی سطح پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی اورانتخابی نقائص دور کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی جماعت سمجھتی ہے کہ خیبر پختونخوا میں دھاندلی کے ذریعے تحریک انصاف حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی ہے تو ان کی جماعت صوبے کے تمام حلقوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کرانے کے لیے تیار ہے۔

حکومت کے اعلان کے مطابق کمیٹی میں کل 33 منتخب ارکان ہوں گے، جن میں سے 22 کا تعلق قومی اسمبلی اور 11 کا سینیٹ سے ہوگا۔

اس کے علاوہ سیاسی جماعتوں کو سینیٹ اور قومی اسمبلی میں تعداد کے لحاظ سے نمائندگی حاصل ہوگی۔

خیال رہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے دس جون کو قومی اسمبلی اسپیکر سردار ایاز صادق کو تحریری طور پر لکھا تھا کہ وہ انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے ارکان پر مشتمل ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیں۔

اسی بارے میں