امریکہ جنگ کے اخراجات جاری رکھے: طارق فاطمی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گذشتہ برسوں میں پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو رقم خرچ کی ہے وہ امریکہ کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت پاکستان کو واپس کی جاتی رہی ہے

پاکستان کے وزیرِ اعظم کے مشیر برائِے خارجہ امور طارق فاطمی نے کہا ہے کہ پاکستان کی خواہش ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کے بعد بھی امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پر آنے والے اخراجات کی ادائیگی جاری رکھے۔

طارق فاطمی آج کل واشنگٹن کے دورے پر ہیں جہاں وہ دفترِ خارجہ، وزارتِ دفاع اور وائٹ ہاؤس کے اہلکاروں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

طارق فاطمی کا کہنا ہے کہ اگلے ایک دو برسوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا جو مقصد ہے وہ حاصل نہیں ہوتا اور پاکستان اس جنگ میں اپنی مدد جاری رکھتا ہے تو ان کی امید ہوگی کہ امریکہ پہلے کی طرح ہی اس خرچ کو جاری رکھے۔

گذشتہ برسوں میں پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو رقم خرچ کی ہے وہ امریکہ کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت پاکستان کو واپس کی جاتی رہی ہے۔

مانا جا رہا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کے بعد شاید یہ كولشن سپورٹ فنڈ جاری نہیں رہے اور پاکستان اسے جاری رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے طارق فاطمي نے کہا کہ وزیرستان میں فوجی کارروائی تب تک جاری رہے گی جب تک کہ وہاں سے دہشت گردی کو ختم کرنے کا مقصد حاصل نہ ہو جائے۔

انھوں نے کہا کہ اس آپریشن میں پاکستان یہ نہیں دیکھ رہا کہ یہ شدت پسند کس ملک سے ہیں، کس قوم سے ہیں یا پھر سیاسی طور پر وہ کس کے ساتھ ہیں۔

گذشتہ ہفتے افغانستان میں امریکی فوج کے اعلی كمانڈر جنرل جوزف ڈنفرڈ نے کہا تھا کہ شمالی وزیرستان میں طالبان کے خلاف پاکستانی آپریشن کو کامیابی ملی ہے لیکن حقانی نیٹ ورک کے خلاف ہم جس طرح کے اثرات دیکھنا چاہتے تھے وہ نظر نہیں نظر آ رہے ہیں۔

اس کے جواب میں فاطمي کا کہنا تھا کہ جب اتنا بڑا آپریشن ہوتا ہے اور اتنی بڑی فوج تعینات کی جاتی ہے تو ظاہر ہے وہ ہوا میں نہیں ہوتا، پوری دنیا کو اس کا پتہ چلتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ بہت سے افراد وہاں سے بھاگ نکلے ہیں لیکن ہماری پالیسی سب کو نشانے بنانے کی ہے۔

فاطمي نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان ایک مشترکہ معاہدے پر کام کر رہے ہیں جس کے تحت دہشت گردی کے خلاف تعاون بنانے اور ایک دوسرے کی شکایات کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اسی بارے میں