بلوچستان: تیزاب پھینکنے کا ایک اور واقعہ، دو خواتین زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بلوچ آبادی والے علاقے میں خواتین پر تیزاب پھینکنے کے واقعات کا سلسلہ تین چار سال قبل سابق حکومت کے دور میں شروع ہوا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں منگل کو تیزاب پھینکنے کے ایک واقعے میں مزید دو لڑکیاں زخمی ہوئی ہیں گذشتہ روز اسی طرح کے ایک حملے میں کوئٹہ کی دو خواتین زخمی ہوئی تھیں۔

منگل کو تیزاب پھینکنے کا واقعہ کوئٹہ سے اندازاً 50 کلومیٹر دور جنوب مشرق میں مستونگ شہر میں پیش آیا۔

خواتین پر تیزاب حملوں میں اضافہ

مستونگ پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ شہر میں 14 سے 15 سال کے درمیان عمروں کی دو بہنیں عید کی خریداری کے لیے بازار آئی تھیں۔ خریداری کے بعد جب یہ واپس گھر جا رہی تھیں توموٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم افراد نے ان پر تیزاب پھینک دیا۔

اہلکار کا کہنا تھا تیزاب ان میں سے ایک کی گردن جبکہ دوسری کے چہر ے پر گرگیا۔ دونوں بہنوں کو ابتدائی طبی امداد کے لیے مستونگ شہر میں ایک پرائیویٹ ہسپتال منتقل کر دیاگیا ہے۔ تاحال حملے کے محرکات معلوم نہیں ہو سکے۔

بلوچستان میں 24گھنٹوں کے دوران تیزاب پھینکنے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔

پیر کو کوئٹہ شہر میں تیزاب پھینکنے کے ایک اور واقعے میں دو خواتین زخمی ہوئی تھیں۔ کوئٹہ میں زخمی ہونے والی دونوں خواتین بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال کے برن یونٹ میں زیر علاج ہیں۔

ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ تیزاب پھینکنے کے باعث دونوں خواتین کے چہرے اور ہاتھوں پر زخم آگئے ہیں۔ کوئٹہ پولیس کے مطابق یہ واقعہ سریاب میں پیش آیا تھا۔ دونوں خواتین اپنے گھر سے قریبی شاپنگ سینٹر خریداری کے لیے نکلی تھیں۔

نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے تیزاب پھینکنے کے لیے سرنج کا استعمال کیا تھا۔ تاحال دونوں واقعات کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے۔ کوئٹہ میں پیش آنے والے واقعے کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے۔

سینیئر صحافی سلیم شاہد کا کہنا ہے کہ بلوچستان ایک قبائلی معاشرہ ہے اور یہاں دشمنیاں نبھانے کے لیے کبھی بھی تیزاب پھینکنے کا طریقہ نہیں اپنایا گیا۔

ان کا کہنا ہے: ’ہم یہ سنتے رہتے تھے کہ پنجاب میں اس قسم کے واقعات رونما ہوتے ہیں جہاں خواتین کے چہروں کو مسخ کرنے کے لیے تیزاب پھینکا جاتا ہے۔ بلوچستان میں خواتین کے خلاف یہ ایک نئی چیز ہے۔ اس پر لوگوں کو یہ تشویش ہے کہ بلوچستان میں یہ طریقہ کہاں سے آیا۔‘

بلوچستان کے کسی بلوچ آبادی والے علاقے میں خواتین پر تیزاب پھنکنے کے واقعات کا سلسلہ تین چار سال قبل سابق حکومت کے دور میں شروع ہوا۔

اس سے قبل کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تیزاب پھینکنے کے تین واقعات رونما ہوئے۔ ان میں سے ایک واقعہ سریاب ہی کے علاقے میں پیش آیا تھا جبکہ دو دیگر واقعات قلات اور دالبندین کے علاقوں میں رونما ہوئے تھے۔ تاحال حکام کی جانب سے سابقہ واقعات کے محرکات کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔

تاہم سلیم شاہد کا سابقہ واقعات کے محرکات بارے میں کہناہے کہ ’دالبندین اور قلات میں جو واقعات رونماہوئے تھے ان کی ذمہ داری جنھوں نے قبول کی تھی انھوں نے یہ کہا تھا کہ خواتین گھروں سے نہ نکلیں۔‘

اسی بارے میں