خواتین طلبہ کی شکایت پر فیس بک پر پابندی

Image caption ’انٹرنیٹ ریسرچ کے لیے استعمال ہونا چاہیے نہ کہ طلبہ پوری پوری رات فیس بک پر وقت ضائع کریں‘

پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی نے یونیورسٹی کے کیمپس میں سوشل میڈیا کی ویب سائٹ فیس بک کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔

پابندی سے قبل طالب علموں کو یونیورسٹی کے انٹرنیٹ کنیکشن کے ذریعے فیس بک استعمال کرنے کی اجازت تھی لیکن پچھلے ماہ اس مقبول سوشل نیٹ ورک کی سہولت کو بند کر دیا گیا ہے۔

یونیورسٹی میں کمپیوٹر نیٹ ورک کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ندیم ملک کا کہنا ہے کہ پابندی لگانا ضروری ہو گیا تھا: ’طالبات کی طرف سے شکایات آئی تھیں کہ ان کی تصاویر لے کر اپ لوڈ کر دی جاتی ہیں اور پھر کچھ غلط قسم کے ریمارکس دیے جاتے ہیں۔‘

میں نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ مستقل پابندی ہے تو انھوں نے کہا: ’فی الحال تو مستقل ہے۔ دیکھیں یونیورسٹی کا کام صرف پڑھانا نہیں ہے بلکہ انھیں اخلاقی تربیت دینا بھی ہمارا کام ہے۔ فیس بک اگر استعمال کرنی ہے تو وہ گھر پر کریں۔‘

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ وائس چانسلر نے وائی فائی پر ایک کروڑ خرچ کیا ہے تاکہ ہاسٹل کے بچوں کو انٹرنیٹ میسر ہو۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ انٹرنیٹ ریسرچ کے لیے استعمال ہونا چاہیے نہ کہ طلبہ پوری پوری رات فیس بک پر وقت ضائع کریں۔

’بولو بھی‘ نامی تنظیم انٹرنیٹ کی آزادی کے لیے کوشاں ہے۔ اس کی ڈائریکٹر ثنا سلیم کہتی ہیں کہ پاکستانی تعلیمی اداروں میں عام طور پر فیس بک پر پابندی ہوتی ہے لیکن یہ مسائل کو حل کرنے کا مناسب طریقہ نہیں۔

’دیکھیں، اگر ان کا کہنا ہے کہ وقت ضائع کرنے کی وجہ سے کیا ہے تو اسے بلاک کرنے سے کچھ نہیں ہوگا کیونکہ پراکسیز ہوتی ہیں تو لوگ پھر بھی رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس سے بہتر یہ ہے کہ یونیورسٹی طلبہ کو سوشل میڈیا کے بارے معلومات دے جیسے کہ طلبہ فیس بک پر زیادہ وقت ضائع کرنے کے بجائے انھیں ڈیجیٹل سکیورٹی کے بارے میں بتائیں۔ اپنے طالب علموں پر اعتماد کریں کہ وہ اپنے وقت کودرست انداز میں بانٹ لیں گے۔‘

بارانی زرعی یونورسٹی کے ایک طالب علم کا کہنا تھا کہ فیس بک پر کالج کی سطح پر پابندی لگانا مناسب ہے لیکن یونیورسٹی کی سطح پر ایسا کرنا درست نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ طالب علم پھر بھی تھری جی کے ذریعے فیس بک تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فیس بک کے بہت فوائد بھی ہیں جیسے کہ سوشل مارکٹنگ اور پوری دنیا سے لوگوں تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔ آخر میں ان کا کہنا تھا کہ یونورسٹی کا یہ غیر مناسب رویہ ہے۔

اکیسویں صدی مواصلات اور اطلاعات کا زمانہ ہے۔ بہت لوگوں کا خیال ہے کہ ایسی سائٹس پر پاکستانی یونیورسٹیوں میں پابندی لگانا معلومات تک رسائی کے حق کے منافی ہے۔

اسی بارے میں